مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 151 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 151

(۱۵۱) ڈاکٹر انوار احمد شمیم ( ٹورنٹو) یکتائے عصر سائینس دان ڈاکٹر عبد السلام کی دلی خواہش تھی۔کہ تیسری دنیا کے ممالک سائینس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے نہ رہیں۔اس مقصد کی خاطر ان کی پوری زندگی جہد مسلسل نظر آتی تھی۔ان کے بیشمار سہنری کارناموں میں سے ایک اہم کا رنامہ انٹر نیشنل سینٹر فارتھیو رٹیکل فزکس ہے جس کا اب نیا نام عبد السلام انٹرنیشنل سینٹر ہے۔خاکسار کو اس ادارہ کی مائیکرو پروسیسر لیبارٹری میں تین سال تک یعنی 91-1989 کام کرنے کا موقعہ ملا۔اگر چہ پروفیسر سلام صاحب سے ہمارے گروپ کا براہ راست تعلق تو نہ تھا۔لیکن اس نابغہ روزگار ہستی سے ملاقات کا قریبی تعلق تھا۔جب میں پہلی بار ملاقات کیلئے ڈاکٹر صاحب سے ملنے گیا۔تو دل میں ملے جلے جذبات کا عصر نمایاں تھا۔وہی احساس تھا جو عمو ماً کسی بڑی ہستی سے ملاقات کے وقت جنم لیتا ہے۔کہ جانے وہ شخص اتنی عزت، شہرت کا مقام پانے کے بعد خدا جانے کس قدرسخت گیر ہو۔اور دوسروں کو کم تر تصور کرتا ہو۔مگر ایسی کوئی بات میں ان میں نہ پائی۔جوش ملیح آبادی نے اس چیز کو اس شعر میں بیان کیا ہے: بہت جی خوش ہوا اے ہم نشیں کل جوش سے مل کر ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں میں نے ڈاکٹر صاحب کو بے حد ملنسار، سادہ طبع ، خوش مزاج اور خوش گفتار پایا۔کسی ہم وطن سے ملتے وقت تو ان کی آنکھوں سے بے پناہ انسانیت کے سوتے پھوٹتے نظر آتے تھے۔وہ اپنے ہم وطن کو ملتے وقت پسند کرتے تھے کہ اپنی زبان میں گفتگو کی جائے۔یہ ان کی اپنے وطن سے لازوال محبت کی ایک بے ساختہ ہی ادا تھی۔ان سے ملاقات کا وقت بالعموم دو پہر کے بعد ہوا کرتا تھا۔حیرت کی بات یہ تھی