مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 144
(۱۴۴) کہا تھا کہ اس ملک میں سائینس کی کچی خدمت قاسم محمود کر رہا ہے تھرڈ ورلڈا کا ڈمی آف سائینس کی طرف سے اس لئے انہیں ایک ہزار ڈالر کا انعام دیا جاتا ہے۔اخبار نے یہ خبر خطبہ صدارت سے الگ کر کے نمایاں بکس میں شائع کر دی تھی۔یوں کسی دوسرے شہر میں اس چیز کا اعلان میرے لئے بہت بڑے اعزاز کا نشان تھا مگر یہ تو میرے گلے کا طوق بن گیا۔میں کچھ بھی نہ کہہ سکا اور چور بنا خموش بیٹھا رہا۔تیسرے نے پوچھا ، سچ سچ بتلائیے آپ کو سلام دیتا کیا ہے؟ میں نے عرض کی وہ مجھے کچھ دیتے نہیں۔جو کچھ دیتے ہیں وہ دراصل آپ کو دیتے ہیں وہ آپ کے بچوں کو دیتے ہیں۔میگے زین کے ستر خریداروں کا چندہ ہر سال بھجواتے ہیں۔اس شرط پر کہ یہ کا پیاں میں پاکستان کے پسماندہ سکولوں کو بھجواؤں۔میں نے ان کی گتھیاں باندھ رکھی ہیں اور ہر سال کسی نئے صوبے کو یہ کا پیاں ارسال کی جاتی ہیں۔یہ مضامین آپ کے بچے ہی پڑھتے ہیں۔یہ رسالہ میرے لئے نہیں آپ کے لئے ہے۔چوتھے نے کہا، اچھا بتلائے آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ میں نے کہا با مسلمان اللہ اللہ۔کہا گیا یہ تو نری منافقت ہے۔بھائی صاحب مہذب معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا کہ چلتے آدمی کو پوچھا جائے بتا تیرا عقیدہ کیا ہے؟ اس لئے عرض کئے دیتا ہوں میں خود کو مذہب کی احتسابی عدالت میں کھڑا محسوس کرتا ہوں۔میں نے سائینس میگیرین کے چند شمارے ان کو پیش کئے۔مجھے معلوم تھا کہ مجھ سے یہ سوال ضرور کیا جائیگا۔میں نے یہ طریقہ ایجاد کر لیا تھا کہ اپنے اداریوں میں کسی نہ کسی طرح حضرت نبی پاک ﷺ کا نام ضرور لے آتا تھا یعنی اللہ کا آخری رسول، پیغمبر آخر الزمان، سمجھنے والوں کیلئے یہ اشارہ کافی ہوتا تھا کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ہیں؟ وہ میرے چاروں مہمان کافی ہوشیار تھے۔مجھ سے اب پوچھا گیا کیا آپ عبد السلام کو کافر سمجھتے میں نے کہا کافر۔۔۔سخت کافر۔۔نہ جانے میری زباں پر کیوں میر تقی میر شعر آ گیا۔