مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 102
(۱۰۲) شاء اللہ کسی نے بھی وعدہ ایفاء کر نیکی تکلیف گوارہ نہ کی۔افسوس کہ ڈاکٹر سلام کی دردمندانہ اور حق آشنا اپیل صدا بصحر اثابت ہوئی اور مسلمان ممالک کی حالت میں کوئی قابل قدر بہتری نہ ہوسکی۔حتی کہ ان کا وجود اور ان کی بقا بھی دوسروں کے رحم و کرم پر موقوف چلے آتے ہیں۔ان کا خاص لباس اسی طرح وہ چاہتے تھے کہ وہ بین الاقوامی ادارہ ( آئی سی ٹی پی) جو آ خر ٹریسٹ میں قائم ہوا پاکستان میں قائم کیا جائے۔لیکن ان کی یہ خواہش بھی ہماری حکومتوں کے بے اعتنائی کی نظر ہو گئی اور آج جو نا گفته به حالت سائینس اور علم کی ہمارے ملک میں نظر آتی ہے وہ یقینا ہم سب کے لئے دکھ اور شرمندگی کا باعث ہے۔چند برس ہوئے ڈاکٹر عبدالسلام کو گرمیوں کے موسم میں دہلی جاتے ہوئے لاہور مختصر قیام کا موقعہ ملا۔روانگی کیلئے تیار ہوئے تو کوٹ پتلون کے اوپر رین کوٹ پہنا ہوا تھا۔میں نے ازراہ تفن پوچھا کہ کیا دہلی میں برف باری ہوتی ہے جو اسکی تیاری کی گئی ہے؟ انہوں نے اپنا مخصوص قہقہہ بلند کیا اور کہا بھئی بات یہ ہے کہ اس کوٹ نے ایک طویل عرصہ میرے ساتھ وفا کی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ سفر میں یہ کہیں کھو جائے۔اس لئے میں اسکی حفاظت کیلئے گرمی سردی میں پہن ہی لیتا ہوں۔یہ انتہائی سادہ سوچ اس شخص کی تھی کہ جب اس نے کیمبرج میں اپنے استاد سے اپنے کام کے متعلق سرٹیفکیٹ مانگا تو استاد نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ تم مجھے سند دو کہ تم نے میرے ساتھ کام کیا ہے۔ڈاکٹر عبد السلام سے میری آخری ملاقات کوئی اڑھائی سال قبل ان کے بیٹے کے نکاح کے موقعہ پر ہوئی۔وہ اپنی وھیل چیر میں بیٹھے کھوئے کھوئے نظر آرہے تھے۔میں قریب آکر بیٹھا تو میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کالج کا زمانہ یاد کرنے لگے۔ان کی بات مشکل سے سمجھ آ رہی تھی اور میں اندازے سے جواب دیتا رہا۔ان کی یہ حالت دیکھ کر میری آنکھیں نم ہونے لگیں۔وہ شخص جو اپنے لطیف نکات اور زور خطابت سے دنیا کے ممتاز ترین دانشوروں کو مسحور کر لیتا تھا۔ایک موذی مرض کے سبب بول چال پر بھی قادر نہیں رہا تھا لیکن اس حالت میں بھی اس نے حکومت پاکستان کی علاج کیلئے پیشکش کا یہ جواب دیا تھا کہ میں