کیا احمدی سچے مسلمان نہیں؟ — Page 33
مذہب اختیار نہیں کر لیتے، جنہوں نے آپ ہی کے حملے کا طریق اختیار کرتے ہوئے اس ایک شخص کی غیر ذمہ دارانہ تحریر کے بدلے سارے دیوبندیوں کو مشرک قرار د سے رکھا ہے اور کھلے بندوں اعلان کرتے پھر رہے ہیں کہ دیکھو دیوبندیوں کا کلم مسلمانوں کے کلمہ سے بالکل مختلف ہے اور جب وہ محمد رسول اللہصلی الہ علیہ وقت کا کلمہ پڑھتے ہیں تومراد اشرف علی تھانوی صاحب ہوتے ہیں۔اب بتائیے کہ آپ کو سوائے اسکی کہ بریلوی ہو جائیں مسلمان کہلانے کا کیا حق باقی رہ جاتا ہے۔لدھیانوی صاحب نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی جس عبادت پر اپنے افتراء کی عمارت تعمیر کی ہے۔وہ یہ ہے :- و مسیح موجود خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی " لكلمة الفصل۔۱۵ قارئین کرام۔در اصل یہ تحریر ایک ایسے مریض کو پیش نظر رکھ کر لکھی گی جو و تسلیم کرتا تھا کہ احمدوں کا کوئی الگ کہ نہیں ہے اور اس طرح چالاکی سے احمد علم کلام پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔غرض یہ تھی کہ احمدیوں کو ملزم کرنے کہ اگر تمہارا یعنی حضرت مرزا صاحب کا الگ کلمہ نہیں ہے تو وہ کسی معنوں میں نبی نہیں کہلا سکتے اور اگر کلمہ الگ ہے، تو امت محمدیہ سے خارج ہو جاتے ہیں چالاکی کے اس پھندے سے نکلنے کی کوشش سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ عبارت لکھی جس پر جناب لدھیانوی صاحب بھر بھر کر حملہ کر رہے ہیں۔درحقیقت اسکا جواب جو مصنف کتاب " کلمۃ الفصل" دینا چاہتے تھے اور وہی آج بھی ہر احمدی کا جواب ہے جو یہ ہے کہ یہ درست ہے کہ جماعت احمدیہ کا کوئی الگ کلمہ نہیں اور مولوی صاحب جو یہ بات پیش کرتے ہیں کہ جماعت کا کوئی الگ کلمہ ہے یہ بالکل جھوٹ ہے۔جماعت احمدیہ کا وہی کلمہ ہے جو لا إله إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُول اللہ ہے ہم حضرت