کیا احمدی سچے مسلمان نہیں؟ — Page 13
۱۳ اور تمام دنیا میں دین کے غلبہ کے لئے محض مولوی اور پیر، فقیر کام نہیں دے سکتے۔لازم ہے کہ کوئی خدا کا نبی اس عظیم کارنامے کو سر انجام دینے کے لئے آئے۔اس لئے اس حصہ پر بھی کوئی اختلاف نہیں۔اب اختلافی مسئلہ صرف یہ رہ جائے گا کہ و بھی آئے ایسے رنگ میں آئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کس معنی میں بھی تخفیف کا موجب نہ ہو بلکہ عزت افزائی کا موجب بنے۔اس مسئلہ کا حل مولوی یوسف لدھیانوی صاحب اور ان کے ہمنواؤں کے نزدیک یہ ہے۔کہ آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی عزت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی امت میں سے کسی کو خواہ وہ کتنا ہی تابع نبی کیوں نہ ہو، آپ کے بعد منصب نبوت پر فائز نہ کیا جائے بلکہ آپ کی امت کی اور زمانے کی جائزہ ضرورتیں پوری کرنے کے لئے کسی پرانی امت کے نبی کو واپس بلالیا جائے اور سارے کام اسی سے چلا لئے جائیں۔جماعت احمدیہ کے نز دیک یہ حل محض مضحکہ خیز ہے اور در حقیقت عزت افزائی کا موجب نہیں بلکہ برعکس نتیجہ پیدا کرتا ہے۔اس کی بجائے سیدھا ساد العقول حل یہ دکھائی دیتا ہے کہ فستر آن کریم کی اس آیت کریمہ کے مطابق کہ مَن تُطِيعِ الله وَالرَّسُوْلَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ الْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ من النبيين والصديقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ - ترجمہ : جو لوگ بھی اللہ اور اس رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اورشہداء اور مائیں۔رسورة النساء آيت ٢٠) حضرت اقدس محمدمصطفی صلی اللہ علی ولی کی امت اور آپ کے غلاموں میں ہی سے اس غلام کامل کو امتی نبوت کی خلعت عطا کی جائے جو خدا کے نزدیک احیائے دین کے لئے اپنی