کیا احمدی سچے مسلمان نہیں؟ — Page 15
۱۵ برعکس کوئی قول عقلاً قابل قبول نہیں جس کی شریعیت کامل ہو اور محفوظ ہو اسکے بعد صاحب شریعیت نبی آنے کا تصور ہی بالبداہت باطل ہے۔پس آخری ہونا ضرورت کے لحاظ سے لکھے ہوتا ہے نہ کہ اس بحث سے کہ پہلے کون پیدا ہوا اور بعد میں کون۔یا پہلے کس کو نبوت دی گئی یا بعد میں کیس کو۔اگر کسی کو بعد میں نبوت دی گئی اور اس کے باوجود پہلے کے دوبارہ آنے کی ضرورت باقی رہی تو لان گا جو نبوت کے لحاظ سے زمانے کی ضرورت پوری کریگا وہی زمانی لحاظ سے آخری نبی ہوگا۔جماعت احمدیہ کے نزدیک تو محض زمانی لحاظ سے آخری ہونا ہرگز باعث فضیلت نہیں ہے بلکہ زمانی لحاظ سے آخری صاحب شریعت ہونا باعث فضیلت ہے کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے که آخری صاحب شریعت پر جو شریعت نازل ہوئی وہ سب سے افضل واکمل اور دائمی تھی۔اسی وجہ سے اس کے بعد کسی اور شریعیت کی ضروتہ نہیں رہی پیس آخری صاحب شریعت نبی ہوتا تو ایک بہت بڑی فضیلت کی بات ہے اور اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے نبی کا سکہ تا قیامت چلے گا اور کوئی نبی ایسا نہیں ہو سکتا جو اس کی حکم کو ٹال دے یا اس میں ترمیم کر دے کیونکہ عقلاً یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ جس کا قانون ہمیشہ کے لئے ہو اسکی فرمانروائی بھی ہمیشہ کے لئے ہے۔پس اس پہلو سے آخری ہونا لازما باعث فضیلت ہے۔جماعت احمدیہ کا یہی عقیدہ ہے لیکن لدھیانوی صاحب اور ان کے ہمنوا بیہ سمجھتے ہیں کہ محض زمانی لحاظ سے آخری ہونا باعث فضیلت ہے۔حالانکہ اس لغو عقیدے کی رو سے ی الحقیقت زمانی طور پر علی علیہ اسلام ہی آخر نبی بنیں گے کیونکہ با وجود اس کی کہ آپ کو نبوت پہلے عطا ہوئی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ضرورت پیش آنے پر وہ آخری شخص جو دنیا میں نبوت کر سے گا وہ علیمی علیہ السلام ہوں گے۔لدھیانوی صاحب کہتے ہیں :- صاحب فضیا تے کون ہوگا