مقربان الہی کی سرخروئی — Page 30
۳۰ حه دوم ص ۱ ص ۱۲ مطبوعہ مطبع معارف، اعظم گڑھ) (۴) حضرت صوفی شعیب بن الحسن المغربي (ابومدین) رحمة الله علیه و قام ۵۹ ہجری) آپ اندلس کے ممتاز صوفی تھے علم توحید میں آپ کی کتاب انس الوحيد ونزهة المرید خاص طور پر قابل ذکر ہے۔یہ بزرگ بھی جناب انہی کی طرف سے رُوح کا فرگرمی کے امتحان میں ڈالے گئے اور صبر و رضاء کی منازل طے کرنے کے بعد مقبول درگاہ الہی بنے۔علامہ عبدالوہاب شعرانی نے الیواقیت والجواہر جلد اول کے صفحہ ۱۵ پر تحریر فرمایا ہے کہ اُس وقت کے علماء نے آپ پر زندیق ہونے کا فتویٰ لگایا۔(۵) حضرت الشیخ الاکبر محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ (ولادت ۵۶۰ ہجری، وفات ۶۳۸ ہجری ) مسلم سپین کی جن شخصیتوں نے دنیائے اسلام پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں اور اذہان و قلوب میں زبر دست انقلاب برپا کیا ہے اُن میں آپ سر فہرست ہیں حکمت، تصوف علم کلام ، فقہ، تفسیر، ادب اور شعر و سخن کے آپ شہسوار تھے۔آپ کے قلم سے بے شمار تصانیف نکلی ہیں اور اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت بلند مقام رکھتی ہیں۔آپ کو یہ فخر و اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ نے مسئلہ فیضان ختم نبوت پر اپنے مکا شفات اور باطنی علوم کی بناء پر نہایت تفصیلی اور فیصلہ کن روشنی ڈالی ہے جو قیامت تک کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔حضرت محی الدین ابن عربی ” جیسے مجاہد اسلام کو بھی کا فرسازی کا تختہ مشق بنایا گیا اور اُن کے خلاف کفر و ضلال کے فتوے صادر کئے گئے حتی کہ انہیں کافر اعظم ملک کہا گیا۔ابن عربی کا مصنفہ ابو جاوید نیاز کی، ناشر فیروز سنز لا ہو ر ۱۹۶۹ م ) راسی پر ایسی نہیں، مصر میں تو آپ کے قتل کی باقاعدہ کوشش بھی کی گئی۔انوار اولیار ۳۳ ۲۲ مرتبہ مولانا انیس احمد جعفری) حضرت ابن عربی ” اپنے اس آزمائشی دور میں اس درجہ کامیاب نکلے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی دنیا میں ایسے بزرگ اور صوفی پیدا کر دئیے جنہوں نے آپ کی خدمات کو خراج تحسین ادا کیا