مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 23 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 23

۲۳ جائیں۔اُن کا سر تن سے جدا کر دیا جائے۔ان کے اعضاء آگ میں جھلسائے جائیں اور اس کے بعد انہیں دجلہ کے پانی میں بہا دیا جائے۔اس محکم کی تعمیل کو کوئی نہ روک سکا۔علاج کی جان اس جرم میں لی گئی کہ وہ اَنَا الْحَقِّ کا نعرہ لگاتے رہے تھے۔اِس قول سے اُن کا مطلب یہ تھا کہ وہ اتحاد ذاتِ الہی کے قائل تھے یعنی اپنی ذات کو ذات الہی میں گم کر کے ذاتِ الہی کا جزو بن گئے تھے یا کتاب انوار اولیاء" ف۱۸۱ زیر عنوان حسین منصور حلاج " وزیر عنوان کیا منصور کا فر تھے ؟ مطبوع علی پرنٹنگ پریس لاہو (۲) حضرت امام شیخ ابوالحسن اشعری رحمتہ اللہ علیہ ( وفات ۳۲۴ ہجری) معتزلہ کی عقلیت اور سطحی فلسفیت کی سطوت و شوکت کو خاک میں ملانے کی اولین سعادت جس عظیم شخصیت کے حصہ میں آئی وہ حضرت امام ابو الحسن اشعری رحمتہ اللہ علیہ تھے جو مجتہد فن اور علم کلام کے بانی ہونے کے علاوہ عبادت و تقوئی ، اخلاق فاضلہ اور روحانیت میں بھی درجہ امامت و اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے حق تعالیٰ نے مذہب اسلام کی تبلیغ ، احتقاق اور حمایت کے لئے انہیں بے پناہ جذبہ عطا فرمایا تھا۔معاصرین اُن کی فصاحت و بلاغت، حسین تقریبہ اور قوتِ تحریر کی وجہ سے اُنہیں" لسان الامت کے خطاب سے یاد کرتے تھے۔علامہ ابو اسحق اسفرائنی کا پایہ علم کلام و اصول فقہ میں مسلم ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں امام ابوالحسن اشعری کے شاگر وشیخ ابو الحسن باہلی کے سامنے ایسا تھا جیسے سمندر کے اندر قطرہ۔تاریخ دعوت و عزیمت " حصہ اول صد تا ۹۱ { ۱۹۵۵ رویج کا فرگری نے اسلام کے اس مایہ ناز فرزند کو بھی معاف نہیں کیا اور آپ کو ملحد اور کا فرنک کہہ دیا گیا۔(ہفت روزه خورشید ندیله ۲۵ فروری ۹۳۸ در صفحه و کالم ۳)