مقربان الہی کی سرخروئی — Page 22
۲۳ چوتھی صدی ہجری (۱) حضرت منصور حلاج رحمتہ اللہ علیہ (ولادت ۲۱۲ ہجری، شهادت ۳۰۹ ہجری) خیر القرون کے بزرگان اُمت کی تقوی اشعاری ، للہیت، صبر ورضاء ، توکل و استقلال ور را و حتی میں خدا کاریوں اور جاں نثاریوں کا تذکرہ کرنے کے بعد اب ہم فیج اعوج کے عہد مظلہ کے اُن اولیاء و اصفیاء کے حالات پر روشنی ڈالتے ہیں جنہوں نے کا فر سازی کی ذہنیت کے اُٹھائے ہوئے جیب سیلاب کے دوران حق و صداقت کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا اور عشق الہی اور عقیدت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت سینہ بسینہ اگلی نسلوں میں منتقل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اس سلسلہ میں سب سے پہلا نام ہمارے سامنے حضرت حسین منصور حلاج رحمتہ اللہ علیہ کا آتا ہے جو صاحب کرامات بزرگ اور خدا تعالیٰ کے سچے عاشق اور صوفی کامل اور درجہ غنائیت تک پہنچے ہوئے تھے اور جوش وحدت اور حالت بذب میں مسئلہ وحدت الوجود کو مانتے اور آنا الحق کا مجذوبانہ اور مجوہانہ نعرہ بلند کرتے تھے۔زہد و ورع کی یہی منزل تھی جس پر کافرکہ ذہنیت ایک بار پھر ٹوری قوت سے جوش میں آئی اور اُس نے نہ صرف راہ خدا کے اس سالک کو کتاب و سنت کی رو سے“ کا فروزندیق بنا ڈالا بلکہ سالہا سال تک قید خانه کی صعوبتوں میں مبتلا کرنے کے بعد بال آخر بغداد کے بادشاہ مقتدر کے حکم سے تختہ دار پر لٹکا کردم لیا۔" قاموس المشاہیر جلد ۲ ص ۱۳۳۲، متولّفه نظامی بدایونی مطبوعہ نظامی پریس بدایونی ساله) مولانا رئیس احمد صاحب جعفری تحریر فرماتے ہیں:۔ہ ہجری میں ابن داؤد الاصفہانی الظاہری کے فتوے کی بناء پر پہلی مرتبہ گرفتار ہوئے۔۔۔۔ہجری میں دوسری مرتبہ ان کی گرفتاری عمل میں آئی اور آٹھ سال تک مسلسل امیر زنداں رہے۔۔۔شہ ہجری میں ان کے مقدمہ کا آخری فیصلہ ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ ۱۸ر ذی قعدہ کو ان کی زندگی ختم کر دی جائے گی ر اس طرح کہ اُنہیں کوڑے مارے جائیں، اُن کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے