مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 8 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 8

اپنے پیارے بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے زبور میں حضرت داؤد کی ابتدائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں اور انجیل میں آزمائش کے وقت میں حضرت مسیح کی غریب نہ تفرعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب فخر الرسل کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتهالات اسی قانونِ قدرت کی تصریح کرتے ہیں۔اگر یہ ابتلاء درمیان میں نہ ہوتا تو انبیاء اور اولیاء آن مدارج عالیہ کو ہرگز نہ پا سکتے کہ جو ابتلاء کی برکت سے انہوں نے پالئے۔ابتلاء نے اُن کی کامل وفاداری اور ستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں اور کیسے نیچے وفادار اور عاشق صادق ہیں کہ اُن پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے بڑے زلزلے اُن پر وارد ہوئے اور ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکاروں اور بے عزتوں میں شمار کئے گئے اور اکیلے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربانی مردوں نے بھی جن کا اُن کو بڑا بھروسا تھا کچھ مدت تک منہ چھپا لیا اور نمدا تعالیٰ نے اپنی مرتبیانہ عادت کو بہ یکبارگی کچھ الیسا بدل دیا کہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے اور ایسا انہیں تنگی و تکلیف نہیں چھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت مورد غضب ہیں اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ ان پر ذرا مہربان نہیں بلکہ ان کے دشمنوں پر مہربان ہے اور انکے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلاء نازل ہوا۔غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شہرت و سختی سے نازل ہوتی ہے ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں اُن پر ہوئیں پر وہ اپنے بچے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور سست اور دل شکستہ نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب و شدائد کا بار ان پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور جس قدر وہ توڑے گئے اُسی قدر وہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر انہیں مشکلات راہ کا خون دلایا گیا اُسی قدر اُن کی ہمت بلند اور اُن کی شجاعت "