مقربان الہی کی سرخروئی — Page 7
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمُ خداوند تعالیٰ کے محبوبوں مغربوں اور مقدسوں کو ہمیشہ امتحان اور ابتداء میں ڈالا جاتا ہے تاکہ دنیا پر ثابت ہو کہ ہر قسم کے مصائب اور مشکلات کے باوجود وہ اپنے دعوئی محبت الہی میں کیسے ثابت قدم نکلے اور مصائب کے زلزلے اور حوادث کی آندھیاں اور قوموں کا ہنسی ٹھٹھا کرنا اور دنیا کی اس سے سخت کراہت اُن کے پائے استقلال میں ذرہ برابر بھی لغزش پیدا نہ کرسکی ہے صادق آن باشد که ایام بلا می گزارد با محبت باون چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں :- " ابتلاء جو اوائل حال میں انبیاء اور اولیاء پر نازل ہوتا ہے اور باوجود عزیز ہونے کے ذلّت کی صورت میں اُن کو ظاہر کرتا ہے اور باوجود مقبول ہونے کے کچھ مردود سے کر کے اُن کو دکھاتا ہے۔یہ ابتلاء اس لئے نازل نہیں ہوتا کہ انکو ذلیل اور خوار اور تباہ کرے یا صفحہ عالم سے اُن کا نام و نشان مٹا دیوے کیونکہ یہ تو یہ گر ممکن ہی نہیں کہ خدا وند عز و مبل اپنے پیار کرنے والوں سے دشمنی کرنے لگے اور اپنے بچے اور وفادار عاشقوں کو وقت کے ساتھ ہلاک کر ڈالے بلکہ حقیقت میں وہ ابتلاء کہ جو شیر تبر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے اسلئے نازل ہوتا ہے کہ تا اُس برگزیدہ قوم کو قبولیت کے بلند مینار تک پہنچاوے اور المی معارت کے بار یک دقیقے اُن کو کھا وے میں سنت اللہ ہے جو قدیم سے خد میقات