مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 39 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 39

۳۹ دیا تھا اور آپ کے خلاف ملک میں ایک عام شورش پیدا کر دی گئی اور آپ نے بادشاہ کے فرمان پر تقریباً ایک سال تک قلعہ گوالیار میں قید رہ کر پھر سے سنت یوسفی کو تازہ کردیا۔رود کوثر، ص۲۳ تا ۲۲۰ اشاعت سوم شیخ محمداکرام ایم اے، شائع کر وہ فیروز سنز لاہور (۲) حضرت سرید رحمتہ اللہ علیہ ( ولادت ۲ ہجری، شہادت ۷۰ ہجری) آپ آرمینیا کے رہنے والے ایک شاعر تھے۔جوانی میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔آپ اپنے مخلص سرکہ کے نام سے مشہور ہیں۔شاہجہان کے عہد میں ایران سے ہندوستان آئے۔یہاں جذب و جنون طاری ہوا اور سوریاں پھرنے لگے مرید کی مشہور رباعی ہے ہے " ہر کسی که سر حقیقتش باورشد او پهن تر از سپهر نهال در شد مالا گوید که بر فلک شد۔احمد سرند گوید به احمد در شد تذکرۃ الخیال میں ہے کہ اِس رہائی پر آپ کو کافر قرار دیا گیا کہ معراج جسمانی سے منکر ہیں۔علاوہ ازیں آپ کے قرار و او جرم میں اُس وقت اضافہ ہوا جب علماء نے آپ سے کلمہ طیبہ پڑھنے کے لئے کیا مگر مرید نے لا الہ سے زیادہ نہ پڑھا اور " کہا کہ ابھی تک یکی نفی میں مستغرق ہوں مرتبہ اثبات تک نہیں پہنچا جب پہنچوں گا تو الا اللہ بھی کہوں گا۔علمائے ظواہر نے فتوی دیا کہ فقط لا اللہ کہنا کفر ہے اگر سر یک تو بہ نہ کرے تو واجب القتل ہے۔سرد رحمہ اللہ علیہ نے جو محبت الہی میں فانی تھے اپنے مسلک سے منحرف ہونے سے انکار کر دیا۔چنانچہ دوسرے روز مسجد جامع کے سامنے مقتل میں لے جائے گئے جلا د سامنے آیا تو ذیل کا شعر پڑھ کر اپنی گروی رکھ دہی سے شوری شد و از خواب عدم دیده کشوریم دیدیم که باقی است شب فتنه هنوردیم رود کوثر من۳۹، طب و قاموس المشاہیر جلد اول ق، م)