مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 36 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 36

۳۶ قبر کی زیارت کے لئے شد رحیل کے قائل نہ تھے " " حیات حافظ ابن قیم 7 تصنیف عبد العظیم عبد السلام مشرف ترجمہ غلام احمد حریری ایم۔اے۔(۲) حضرت تاج الدین سبکی رحمتہ اللہ علیہ ( ولادت ۲۷ ہجری ، وفات 21 ہجری ) آپ جیسے بزرگ صوفی کامل ، فقیہہ ، مؤرخ ، ادیب پر بھی گھر کا فتوی لگا یا گیا جیسا کہ "الیواقیت والجواہر جلد مث پر مذکو رہے۔نویں صدی ہجری (۱) حضرت مولانا عبد الرحمن جامی رحمه الله علیه ( ولادت ۸۱۷ هجری ، و نامه ۸ هجری) علوم عقلیہ و نقلیہ میں بڑے باہر اور جامع اور عارف کامل تھے۔آپ کی مولفات بہت ہیں جن میں شرح کا فیہ اور شرح نقایہ مختصر الوقایہ کو بڑی شہرت حاصل ہوئی۔آپ کو قتی تغیر کے امتحان میں ڈالا گیا۔دہفت روزہ " خورشید سندیله ۲۵ فروری ۱۹۳۸ و حت کالم ع۳) (۲) حضرت سید محمد جونپوری رحمتہ اللہ علیہ بائی فرقہ جہد ویہ (ولادت ۴ ۸ ہجری وفات ۹۰۲ ہجری ) مشہور ولی کامل تھے جنہوں نے مہدی دوراں ہونے کا دعوئی فرمایا جس پر علمائے خواہر کی طرف سے آپ پر فتوئی گغفر لگایا گیا۔مولانا ابوالکلام آزاد " تذکرہ" میں لکھتے ہیں :- " اُسی زمانہ میں مہدوی فرقہ کا نیا نیا چرچا ہر طرف پھیلا ہوا تھا اور علماء دربار کے لئے اس فرقہ کے قتل وسلب اور تکفیر و تضلیل کا مشغلہ سب سے زیادہ دلپسند اور کامیاب مشغلہ تھا۔ان لوگوں کو ہر زمانے میں اپنی ویبستگی و سکرانی کے لئے فرقہ آرائی اور جنگ و قتال مسلمین کا کوئی نہ کوئی مشغلہ ضرور ملتا