مقربان الہی کی سرخروئی — Page 31
۳۱ اور اپنی گردنیں ان کے سامنے عقیدت سے جھکا دیں۔چنانچہ علامہ قطب الدین شیرازی کا پر قول ہے کہ :۔حضرت شیخ اکبر شریعت و حقیقت دونوں میں کامل اور بے نظیر تھے۔جولوگ اُن کے کلام پر طعن کرتے ہیں وہ کیا کریں۔اُس کو وہ سمجھ نہیں سکتے تھے۔اور جوکوئی اُن کو برا کہتے ہیں تو ان کو ایسا جا تو جیسے وہ لوگ ہیں جو نبیوں کو بُرا کہتے ہیں حضر امام فخر الدین رین رازی رح فرماتے ہیں کہ امام محی الدین ابن عربی بہت بڑے جلیل القدر ولی اور اپنے زمانہ کے قطب الاقطاب تھے۔علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ شیخ اکبر عارفوں کے مرتی اور حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم بقدم چلنے والے تھے۔امام ابن سعد یا فعی کہا کرتے تھے کہ حضرت شیخ اکبر کو ولایت عظمی حاصل تھی۔امام سبکی " کہتے ہیں کہ آپ من آیات اللہ تھے اور اُس زمانہ میں علم وفضل کی گنجی اُنہیں کے ہاتھ میں تھی۔حضرت شیخ الشیوں شہاب الدین سہروردی اور حضرت شیخ کمال الدین رحمہا اللہ ان کے عالی مقام کا اعتراف کرتے تھے اور اُن کی نگاہ میں آپ کا کامل محقق اور صاحب کرامات ہونا مسلم تھا۔مشاہیر اسلام جلد اما ناشر، صوفی پرنٹنگ این پایا کہ کمپنی منڈی بہاؤالدین پنجاب (۶) حضرت شیخ الاشراق شهاب الدین سهروردی رحمتہ اللہ علیہ (شات ۵۸۵ ہجری) آپ کا شمار اولیائے کرام میں ہوتا ہے۔آپ عمو ٹا شیخ مقتول اور قتیل اللہ کہلاتے ہیں حلب کے فقہاء کو آپ نے جب بحث و مناظرہ میں بالکل لاجواب کر دیا تو روح کا فر گری حرکت میں آئی اور آپ کا فر اور واجب القتل قرار پائے۔چنانچہ علماء کے فتویٰ پر سلطان صلاح الدین ایوبی کے بیٹے ملک الظاہر نے آپ کو جیل خانے میں ڈال دیا اور آپ کو قلعہ حلب کے قیب رخانہ میں گلا گھونٹ کر شہید کر دیا گیا۔" معجم المولفين" جلد ۱۳ ما :} و انوار اولیاء ما و حکمائے اسلام حصہ دوم ما مرد