مقربان الہی کی سرخروئی — Page 26
کو بے نقاب کر دیا تھا اس لئے یہ لوگ ان سے کدورت رکھتے تھے۔ان لوگوں کو احساس تھا کہ اُن کا اقتدار کم ہو رہا ہے اور اگر کچھ دان یہی حالت رہی اور اسی طرح اسلام کی صحیح ترجمانی کی جاتی رہی تو پھر لوگ اُن کا نام بھی نہ لیں گئے یہ امام غزالی - صفحه ۳۲ تا ۴۲ ، ناشر فیروز سنز لاہور) غہ الی نامہ" میں لکھا ہے کہ :۔躁 على بن يوسف بن تاشفین متولد ار جب که متوفی ، رجب هم با دشاہ مغرب یعنی اندلس و مراکش مالکی مذہب پر عامل تھا اور نہایت کڑ اور متعصب، فلسفه و منطق کا سخت مخالف تھا۔فقہائے مالکی اور دوسرے دشمنان غزالی نے مشہور کر دیا کہ مؤلفات غزالی سرا پا فلسفہ و تعلق ہیں علی بن یوسف بن تاشقین نے محکم دیا کہ احیاء العلوم کے نسخے جہاں ملیں جمع کئے جائیں نیز ان کی دوسری کتابیں بھی فراہم کی جائیں اور ان سب کو نذر آتش کر دیا جائے اور ساری مملکت میں جتنے پیروان غزالی ملیں اور اُن کی تالیفات کو رواج دینے والے دستیاب ہیں ان سب کو ہلاک اور قتل کر دیا جائے۔۔۔۔قاضی عیاض جن کی وفات مراکش میں سنہ ہجری میں ہوئی نے علی بن تاشفین کے بعد فتوی دیا کہ مؤلفات مالی کو نذر آتش کر دیا جائے۔۔۔۔۔ابن حرام مغربی نے کہ جن کا شمار رئیس فقہائے بلا و مغرب میں ہوتا تھا فتوی دیا کہ احیاء العلوم کا پڑھنا حرام ہے اور اُس کے نسخوں کا جلا دینا واجب ہے نطفہ میں یافعی نے لکھا ہے کہ جس زمانہ میں مؤلفات غزالی پر تیل و قال کا سلسلہ جاری تھا فقہائے ناحیہ جہال نے فتوی دیا کہ غزالی کی کتب کا پڑھنا حرام اور ان کا جلا دینا واجب " " غزالی نامه اردو ترجمہ از مولانا رئیس احمد جعفری ص۳۶، ص۳۶) خدا کی قدرت اریج کا فر گری جس مقدس امام کا پیدا کردہ اسلامی تشریح مغفور ہستی سے۔۔