مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 21 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 21

۲۱ کر دیا دبستان المحد ثمین بحواله مؤلفین صحاح سته ما ناشر ادارہ علوم عصر یہ لائل پور) (۸) حضرت ابنِ حنان رحمتہ اللہ علیہ (وفات ۲۹۷ ہجری) حضرت ابن حنان عالم ربانی بھی زندیق قرار دئیے گئے۔هفت روزه خورشید سند بله ۲۵ فروری ۱۹۳۸ ) (9) حضرت ابو العباس بن عطار رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۳۰۹ ہجری) یہ بزرگ بھی رُوح کا فر گری کی سفاکیوں سے محفوظ نہ رہ سکے اور زندیق اور کا فر قرار پائے۔خورشید سندیله ۲۵ فروری ۶۱۹۳۸ ص۶) (۱۰) حضرت ابوالحسن النوری رحمتہ اللہ علیہ (وفات ۲۹۵ ہجری ) نهایت پاک باطن، صوفی مجتہد طریقت اور شب بیدار عابد و زاہر جنہیں قمر الصوفیاء کہا جاتا تھا۔علام الخلیل نے آپ کی نسبت نیز بعض دوسرے صوفیاء مثلاً حضرت ابو حمزة - رقائم شبلی اور جنید کی نسبت بادشاہ وقت کو مخبری کی کہ یہ سب لوگ بے دین ہیں اوراگر انکو تہ تیغ نہ کیا گیا تو ملک میں بے دینی اور الحاد پھیل جائے گا جس پر بادشاہ نے سب کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔جلا د نے تلوار سونت کر حضرت رقامہ کو قتل کرنا چاہا تو حضرت ابو حسن النوری رحمۃ اللہ علیہ آگے بڑھے اور کہا کہ پہلے مجھے قتل کرو نیز فرمایا میرا طریقہ ایثار پر مبنی ہے اور سب سے عزیز چیز زندگی ہے میں چاہتا ہوں کہ یہ چند سانس بھی اپنے اس بھائی کے عوض خرچ کر دوں گیونکہ میرے نز دیک زندگی کا ایک دم بھی آخرت کے ہزار سال سے بہتر ہے۔بادشاہ وقت آپ کا انصاف اور قدم صدق دیکھ کر حیران رہ گیا اور قاضی کو حکم دیا کہ ان کے بارے میں غور کرو۔اس پر قاضی وقت نے ان بزرگوں کی پر معرفت گفتگو شنی اور بادشاہ وقت سے کہا کہ اگر یہ ملحد و بے دین ہیں تو پھر روئے زمین پر کوئی موقد نہیں۔اسیر بادشاہ وقت نے ان کو نہایت اعزاز و اکرام سے رخصت کیا۔(تذکرة الاولياء باشه در ذکر ابوالحسن النورسي )