مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 13 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 13

از اُن کا قتل کر دینا واجب ہے چونکہ انہوں نے خلیفہ وقت پر خروج کیا ہے لہذا بر بنائے دفع مفرده و خارجی یہ لازم ہے۔پھر قلم اُٹھایا اور فرزند رسول کے قتل کا فتویٰ اس مضمون کا لکھا : بسم الله الرحمن الرحیم میرے نز دیک ثابت ہو گیا ہے کہ حسین ابن علی دین رسول سے خارج ہو گیا ہے لہذا وہ واجب القتل ہے ؟ القه اصه مطبوعه ۱۳۶۷ در مطبع علمی تبریز - ایران) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں :۔حسین رضی اللہ عنہ ظاہر مطہر تھا اور بلاشبہ وہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو سخدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے۔اور اس امام کی تقوی اور محبت الہی اور صبر اور استقامت او زہرا اور عبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کے اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اُس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے۔اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندرلیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ ایک خوبصورت انسان کا نقش۔یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔کون جانتا ہے ان کا قدر ؟ مگر وہی جو اُن میں سے نہیں۔دنیا کی آنکھ اُن کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔یہی وجہ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔دنیا نے کیس پاک اور برگزید: سے اُس کے زمانہ میں محبت کی ؟ تا حسین رض سے بھی محبت کی بھاتی " (پدر ۳ در اکتوبین ۱۹۰۵ء مٹ)