مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 22
22 پیاس کی شدت سے زمین پر ایڑیاں رگڑ رہا تھا۔دوڑ کر دوسری پہاڑی پر چڑھ گئیں۔دور تک نظر دوڑائی لیکن کہیں پانی کا نام ونشان نہ تھا۔اسی طرح بیقراری کے عالم میں دونوں پہاڑیوں کے سات چکر لگائے اور ہر بار بچے کو دیکھتی رہیں۔آنکھوں سے آنسو جاری تھے بار بار آسمان کی طرف منہ اُٹھا تیں۔اور خدا سے مدد طلب کرتیں۔اور جب ساتواں چکر لگا رہی تھیں آسمان سے فرشتہ نے آواز دی۔اے ہاجرہ تجھ کو کیا ہوا ! مت ڈر کیونکہ خدا نے اس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اس کی آواز سن لی۔اُٹھ اور لڑکے کو اُٹھا۔اسے ہاتھ سے سنبھال کہ میں اس کو ایک قوم بناؤں گا۔حضرت ہاجر کا جب بچے کے پاس واپس آئیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ بچہ جہاں ایڑیاں رگڑ رہا تھا وہاں کی مٹی پرنم ہے۔آپ نے جلدی جلدی اپنے ہاتھوں سے مٹی کو ہٹایا۔تو پانی پھوٹ پھوٹ کر نکل پڑا۔فوراً بچے کو پلایا۔پھر خود بھی دوڑ دوڑ کر ہلکان ہو رہی تھیں۔پانی پیا، ساتھ ہی خدا کا شکر ادا کرتی جاتی تھیں۔کہ اللہ تعالیٰ کتنی عظیم ہستی ہے۔ان کا دل حمد سے بھر گیا تھا۔کبھی وہ بچے کو دیکھتیں، کبھی پھوٹتے ہوئے پانی کو۔اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔جو تشکر میں بہہ رہے تھے۔اچانک انہوں نے دیکھا کہ پانی تیزی سے نکلنے لگا۔تو بے ساختہ ان کے منہ سے نکلا۔زم زم زم زم یعنی ٹھہر ٹھہر۔اس کا مطلب یہ تھا کہ رُک جا، رُک جا۔اور ساتھ اردگرد سے مٹی اور پتھر اکٹھے کر کے اس کے گرد ایک منڈیر بنادی۔تا کہ پانی بہہ کر ضائع نہ ہو جائے۔اسی وجہ سے اس مقدس چشمہ کا نام زمزم پڑ گیا۔1 پیدائش باب 21، آیت 17-18