مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 21
21 چھوڑ رہے ہیں۔ادھر بچو! حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حالت بھی ویسی ہی تھی۔وہ بھی دُکھ کی وجہ سے جواب نہیں دے پا رہے تھے۔کیونکہ شدت غم کی وجہ سے ان کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔انہوں نے بڑے صبر اور ضبط سے آسمان کی طرف اُنگلی اُٹھائی۔اس پر وہ نیک خاتون سمجھ گئیں کہ یہ خدا کا حکم ہے۔جلدی سے بولیں ، کہ اگر خدا کی رضا کی خاطر آپ نے ہمیں چھوڑا ہے۔تو پھر فکر نہ کریں۔وہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔آپ اطمینان سے جائیں۔حضرت ہاجرہ کو بھی اللہ تعالیٰ سے بہت محبت تھی۔وہ اس کے ہر حکم کو ماننا فرض جانتی تھیں۔اسی لئے انہوں نے یہ پیارا جواب دیا۔بچو! غور تو کرو۔جہاں دُور دُور کوئی درخت نہ ہو۔جس کے سائے میں انسان بیٹھ جائے۔پھر نہ آدم نہ آدم زاد تو کتنا ڈر لگتا ہوگا۔لیکن جو خدا سے پیار کرنے والے ہوتے ہیں۔ان کو کوئی خوف و خطر نہیں ہوتا۔ان کا دل بالکل مطمئن ہوتا ہے۔کہ اگر درخت کا سایہ نہیں تو کیا ہوا۔خدا کا سایہ تو ہے۔اگر انسان نہیں تو خدا تو ہمارے ساتھ ہے۔پھر ڈرکس بات کا۔حضرت ہاجرہ بچے کو لے کر آسمان کے نیچے بیٹھ گئیں۔کچھ عرصہ بعد کھانا اور پانی ختم ہو گیا۔اب تو بچے نے پریشان کرنا شروع کر دیا۔پیاس اُسے ستا رہی تھی۔پہلے تو حضرت ہاجرہ بچے کو ادھر اُدھر لے کر بہلاتی رہیں۔ساتھ ہی نظر بھی دوڑاتی جاتیں کہ شاید ادھر اُدھر کہیں پانی ہو۔مگر ایک بوند بھی پانی نہ ملا۔پیاس کی شدت بڑھنے لگی۔اور اس کے ساتھ ہی بچے کی حالت بگڑنے لگی۔پھر تو ماں پریشان ہو گئی۔بچے کو زمین پر لٹایا اور دوڑ کر پہاڑی پر چڑھ گئیں۔دُور دُور تک دیکھا شاید پانی ہو۔مگر پانی ہوتا تو ملتا۔پھر گھبرا کر نیچے اتریں۔بچے کو دیکھا۔وہ