مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 6
مقدس ورثہ پیارے بچو! آج آپ کو ایسے واقعات سنا رہی ہوں جن کو پڑھ کر خدا تعالیٰ کی حکمت اور قدرت پر حیران ہو جاؤ گے کہ دونوں واقعات کس قدر ملتے جلتے ہیں۔دونوں واقعات میں ستائیس اٹھائیس سوسال کا فاصلہ ہے۔دونوں واقعات مکہ میں پیش آئے دونوں میں اولا دکو اُن کے باپ نے خدا کے حضور قُربان کرنے کا فیصلہ کیا۔اور حیرت کی بات ہے کہ دونوں بچوں نے بلا چون و چرا خدا کے حضور قربان ہونا قبول کیا۔انہوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔پہلا واقعہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کا ہے۔جن کو ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک خواب کی بنا پر قربان کرنے کا ارادہ کیا۔خدا کا کرنا کیا ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اپنی سب سے پیاری چیز کو خدا کے نام پر قربان کر دو۔وہ چونک کر اُٹھ بیٹھے کہ یہ کیا بات ہے مگر خیال گزرا کہ شاید کوئی شیطانی وسوسہ ہو۔لیکن دوسرے دن پھر خواب میں دیکھا۔کہ اپنی سب سے قیمتی چیز خدا پر قربان کر دو۔بچو! جانتے ہو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کون سب سے پیارا تھا۔ان کو حضرت اسمعیل علیہ السلام سب سے پیارے تھے۔آپ کو بار بار اُن کا خیال ستا رہا تھا کہ خدا جانے کیا بات ہے۔اسمعیل ٹھیک تو ہے لیکن دوسرے دن کے