مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 49
49 گئے۔مگر اس نے نہ چلنا تھا نہ چلا۔اس کی وجہ سے لشکر میں گھبراہٹ پھیل گئی۔اس دوران خدا تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول کے غول بھیجے۔جن کے پیروں میں مٹی لگی ہوئی تھی۔جب پرندے گیلی مٹی پر بیٹھ کر اٹھیں تو مٹی اُن کے پیروں سے چمٹ جاتی ہے اور خشک ہو کر جھڑتی ہے۔بالکل ایسا ہی ہوا۔اس مٹی میں چیچک کے جراثیم تھے۔جب یہ مٹی لشکر پر برسی تو ان میں چیچک کی وبا پھوٹ پڑی۔اور اتنی تیزی سے پھیلی کہ اس نے سارے لشکر کو اپنی گرفت میں لے لیا۔اور تین دن بعد سپاہی مرنا شروع ہو گئے۔طائف کے جو لوگ اس خیال سے لشکر میں شامل ہو گئے تھے کہ ان کے مندر کی عظمت بڑھ جائے۔وہ بھی اس بیماری کا شکار ہوئے۔چونکہ عرب میں چیچک کی بیماری کبھی نہیں ہوئی تھی۔اس لئے وہ اس سے قطعی ناواقف تھے وہ کعبہ سے غداری کرنے پر سخت شرمندہ ہوئے۔مگر بیماری نے تو پکڑ ہی لیا تھا۔ان میں خوف و ہراس پھیل گیا اور یقین ہو گیا۔کہ اس گھر کی عظمت کو پامال کرنے کی سزا مل رہی ہے۔جو لوگ ابھی صحت مند تھے۔وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔مگر بیماری کے جراثیم ان میں داخل ہو چکے تھے۔اس لئے وہ بھی آہستہ آہستہ اس کا شکار ہو گئے۔وہ افراد جو لشکر کی راہنمائی کے لئے ساتھ تھے۔وہ بھی عرب تھے اس بلا سے سخت خوف زدہ تھے مگر ان کو بھی بیماری نے نہیں چھوڑا۔بیماری اتنی شدید تھی کہ بیمار کا سارا جسم پیپ کا چھالا بن جاتا جس کی وجہ سے انگلیاں، ناک، اعضاء جھڑنے لگتے۔پھر تو ہر طرف افرا تفری پھیل گئی۔کچھ تو بیماری کی شدت کا خوف، کچھ ساتھیوں کو لے کر چلنے میں دقت۔ہر شخص کی یہ کوشش تھی کہ وہ اس جگہ سے بھاگ جائے۔جو سامان ان کے ساتھ تھا۔اس کو پھینکا اور بھاگے۔کچھ اپنے بیمار ساتھیوں کو لے کر چلے۔تو راستہ میں سخت پریشان ہوئے۔کچھ لشکر والے مکہ کے