مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 32
32 جب یہ قافلہ حجاز اور شام کے درمیان پہنچا۔تو ان کا پانی ختم ہو گیا۔گرمی، پیاس کی شدت پھر آبادی سے دُور ان تمام باتوں نے ان کو خوفزدہ کر دیا۔کچھ لوگوں کے پاس تھوڑا سا پانی تھا۔مگر ان لوگوں نے دینے سے انکار کر دیا کہ اگر تم کو دے دیا تو پھر ہمارا بھی وہی حال ہو گا جو اب تمہارا ہے۔حضرت عبدالمطلب چونکہ کعبہ کے متولی تھے۔اس لئے وہ معزز اور سردار بھی مانے جاتے تھے۔اور وہ عام سرداروں کی طرح نہیں تھے۔کہ صرف اپنی بات منوائیں بلکہ ان میں یہ خوبی تھی کہ ان کو اپنے لوگوں کے آرام اور دُکھ کا احساس ہوتا تھا۔اس وقت بھی ان کو اپنی قوم کے ان لوگوں پر افسوس ہوا۔جن کے پاس پانی تھا۔اور وہ دینے سے انکار کر چکے تھے۔ساتھ ہی دوسرے لوگوں کی ہلاکت کی بھی فکر تھی کہ کیا کریں۔آپ نے سب سے مشورہ کیا تو سب بولے جو آپ فیصلہ کریں ہمیں منظور ہے۔اس پر آپ نے کہا کہ ہر شخص اپنے لئے ایک گڑھا کھودے۔تاکہ جب اس کو موت آئے تو اس کے ساتھی اُس کو اس میں دھکیل دیں۔اور وہ گدھوں چیلوں کی خوراک بننے سے محفوظ رہے۔یہاں تک کہ کوئی ایک بچ جائے گا۔تو اس ایک کی بربادی بہتر ہے۔بجائے اس کے کہ سب اس طرح مر جائیں۔اور ان کی لاشیں صحرا میں بکھری پڑی ہوں۔چنانچہ سب نے اس بات کو مان کر اپنا گڑھا کھودا۔اور ان کے کنارے بیٹھ کر موت کا انتظار کرنے لگے۔پیاس اور خوف سے ان سب کی بُری حالت تھی۔ان میں ہمت ہی نہ تھی کہ کچھ سوچتے۔وہ زندگی سے مایوس ہو گئے۔حضرت عبدالمطلب نے جب قوم کی یہ حالت دیکھی۔تو ان کو بہت دُکھ ہوا۔انہوں نے قریش کے لوگوں کو حوصلہ دینا چاہا کہ اُٹھو آگے چلتے ہیں۔شاید کوئی