مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 20 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 20

20 وہاں کوئی انسان نہیں رہتا۔مکہ بھی پانی نہ ہونے کی وجہ سے غیر آباد تھا۔بس ایک ویران، اُجاڑ جگہ تھی۔اس کی مشہور پہاڑیاں صفا اور مروہ ہیں۔جس کے درمیان یہ چشمہ پایا جاتا ہے۔پیارے بچو! خدا کا کرنا کیا ہوا کہ اس نے اپنے پیارے بندے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنے بڑے بیٹے اسمعیل کو اس کی ماں ہاجرہ کے ساتھ اس غیر آباد وادی میں چھوڑ دے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے بے حد پیار تھا۔اس لئے انہوں نے کچھ کھانے کا سامان اور ایک مشکیزہ پانی لیا۔حضرت ہاجرہ کی گود میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کو دیا اور چل پڑے۔ایک طویل سفر کے بعد جب وہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچے تو انہوں نے کھانے پینے کا سامان زمین پر رکھا۔اور واپس چل دیے۔حضرت ہاجر گا بڑی حیران ہوئیں۔سوچنے لگیں کہ لڑائی بھی نہیں ہوئی۔مجھ سے ناراض بھی نہیں ہوئے۔بچے سے بھی بے حد محبت کرتے ہیں۔پھر کیا وجہ؟ ابھی حضرت ہاجرہ انہی سوچوں میں تھیں کہ کیا دیکھتی ہیں کہ اُن کے شوہر حضرت ابراہیم علیہ السلام واپس جا رہے ہیں۔حضرت ہاجرہ بہت پریشان ہوئیں۔تیز تیز قدموں سے اُن کے پیچھے چلنے لگیں۔اور ساتھ ہی پوچھتی جاتیں کہ ہم سے کیا قصور ہو گیا ہے۔کیا آپ ناراض ہیں جو ہمیں اس ویران جگہ پر ایک وضاحت جب حضرت اسمعیل علیہ السلام پیدا ہوئے تو اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر تقریباً 86 سال تھی۔اور یہ بچہ بڑی دُعاؤں کے بعد خدا نے دیا تھا۔اسی لئے اس کا نام اسمعیل رکھا گیا تھا۔اسمعیل کے معنی ہیں۔خدا نے سُن لی تھے۔11 پیدائش باب 16 آیت 16 2 دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ 65