مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 19 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 19

19 چشمه زمزم پیارے بچو! آج میں آپ کو ایک ایسے چشمے کے بارے میں بتاتی ہوں۔جو صرف اور صرف خدا کی مرضی سے اس کے پیاروں کیلئے وجود میں آیا۔چشمہ پانی کے اُس خزانے کو کہتے ہیں جو خود بخود زمین کے سینے کو پھاڑ کر نکلا ہو۔یہ کنوئیں کی طرح کھود کر نہیں نکالا جاتا۔بلکہ خود بخود نکل آتا ہے۔چشمہ دو طرح کے ہوتے ہیں۔1 گرم پانی کے 2- ٹھنڈے پانی کے یہ چشمہ ٹھنڈے پانی کا ہے۔اس کو زمزم کہتے ہیں۔زمزم کے معنی ٹھہر ٹھہر یا رک جا، رُک جا۔یہ چشمہ وادی مکہ میں ہے۔اور مکہ اسی چشمہ کی وجہ سے آباد ہوا۔مکہ صحرائی علاقہ ہے۔صحراؤں میں پانی نہیں ہوتا۔زمین ریتلی ہونے کی وجہ سے اگر بارش ہو جائے تو پانی فوراً جذب ہو جاتا ہے۔اس لئے صحراؤں میں جھیل، جو ہر یا تالاب نہیں ملتے۔دُور دُور تک پانی کا نام و نشان نہیں ہوتا۔اگر قافلے صحراؤں میں بھٹک جائیں تو وہ پیاس سے تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں۔پانی چونکہ انسانی زندگی کا سب سے ضروری جز و ہے۔اس لئے انسان چشموں، دریاؤں، جھیلوں کے کنارے رہنا پسند کرتا ہے۔اور جہاں پانی نہ ہو۔1 خوشی کے موقع پر گایا جانے والا نغمہ بھی زمزم کہلاتا ہے۔