مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 10 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 10

10 کے تمام عیش و آرام حرام ہو جاتے ہیں۔وہ صرف خدا کے لئے ہوتا ہے۔جو کام بھی خدا چاہے۔وہ بلا چون و چرا کرتا ہے۔مگر بچو! ایسے انسان کبھی دنیاوی نعمتوں سے بھی محروم نہیں رہتے۔کیونکہ خدا خود ان کے آرام کا، ان کے رزق کا۔ان کی خوشیوں کا انتظام کرتا ہے۔اب دیکھو! کہ خدا یہ سب کچھ کیسے کرتا ہے۔حضرت اسمعیل علیہ السلام کو خدا کے گھر کی حفاظت کی خاطر جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وقف کر دیا۔اور حضرت اسمعیل علیہ السلام بھی اس گھر کی حفاظت کرنے میں بڑے خوش تھے۔ان کو اپنے کھانے پینے کی کوئی فکر نہ تھی۔حالانکہ مکہ بالکل صحرا تھا۔بعض اوقات وہاں شکار بھی نہیں ملتا تھا۔اناج وہاں پیدا ہی نہیں ہوتا تھا۔لیکن حضرت اسمعیل علیہ السلام نے کبھی نہیں سوچا کہ میں یہاں سے کسی اور جگہ چلا جاؤں جہاں آرام ہو کھانے پینے کو آسانی سے مل جائے۔انہوں نے کبھی اپنی بھوک کی فکر نہ کی۔اس کی تو ان کو پرواہ ہی نہیں تھی۔لیکن خدا نے کیا کیا۔اس نے آپ کو مکہ کا بادشاہ بنا دیا۔وہ اس طرح ایک وضاحت حج کے بعد حاجی منی کے مقام پر قربانی کرتے ہیں۔اس کی وضاحت ہو جائے تو اچھا ہے۔کیونکہ قُربانی کی جگہ مروہ ہے۔اور اب منی میں قربانی ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی منی میں ہی قربانی ہوتی تھی۔مگر خود رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے مروہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ”یہ قربان گاہ ہے۔اور مکہ کے تمام پہاڑ اور گھاٹیاں قربان گاہ ہیں۔مروہ کو چھوڑ کر منی میں قربانی دینے کی وجہ حاجیوں کی کثرت ہے۔اس لئے منیٰ کو بھی کعبہ کی حدود میں شامل کر لیا گیا۔ا حضرت امام مالک، کتاب الحج باب ما جاء في الخر في الحج ،،