مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 48
48 درخواست کرتا ہوں کہ تو بھی اپنے اس گھر کی حفاظت کر اور اسے دشمن کے حملہ سے بچا۔اے میرے رب کل ابر ہ اپنی صلیبیں اور لشکر لے کر تمام طاقتوں کے ساتھ خانہ کعبہ کو گرانے آئے گا۔اس کی طاقت تیری قدرت پر غالب نہ آئے۔یہ دعا کی اور روتے ہوئے قریش کو لے کر پہاڑ پر چلے گئے اور حملہ کا انتظار کرنے لگے۔ابرہہ ہاتھیوں کو عربوں پر رُعب ڈالنے کے لئے لایا تھا۔کیونکہ انہوں نے اس جانور کو دیکھا نہیں تھا۔پھر اس کا ارادہ تھا کہ کعبہ کی چار دیواریں ہی تو ہیں۔دو دو ہاتھی ایک ایک دیوار سے کنڈیوں سے باندھ کر جب ان کو دوڑایا جائے گا تو ہاتھی کی طاقت سے دیوار میں گر جائیں گی۔اور یہ گھر ختم ہو جائے گا۔مگر اس کو کیا معلوم تھا کہ اس کی تدبیر کے ساتھ ہی خدا نے بھی تدبیر کر لی ہے۔وہ تو طاقتور ہاتھیوں سے حملہ کرے گا۔مگر خدا تھے سے پرندے کو ان کی تباہی کا ذریعہ بنا دے گا۔جب صبح ہوئی تو بادشاہ نے اپنے لشکر کو تیار رہنے کا حکم دیا۔اور اعلان کیا کہ پہلے ہاتھی نکالے جائیں۔ان کے پیچھے پیچھے لشکر روانہ ہو۔سب سے بڑا اور سردار محمود نامی ہاتھی جس پر ابرہہ خود سوار تھا۔جب اسے باقی ہاتھیوں کے آگے لا کر خانہ کعبہ کی طرف چلایا گیا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ اس نے چلنے سے انکار کر دیا اور زمین پر بیٹھ گیا۔ہاتھیوں میں ایک حس ہوتی ہے۔اگر ان کا سردار ہاتھی چلے تو وہ چلتے ہیں۔اگر نہ چلے تو رُک جاتے ہیں۔اگر وہ حملہ کرے تو وہ بھی کرتے ہیں۔اسی وجہ سے جب سردار محمود نہ چلا تو باقی کیا چلتے۔جب اس کو مشرق کی طرف چلایا جاتا تو چل پڑتا۔شمال کو جاتا ، جنوب کو جاتا مگر مکہ کی طرف جانے سے انکار کر دیتا۔اس کو مارا گیا۔نیزے چھوئے