مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 33 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 33

33 بستی مل جائے جہاں پانی ہو۔اس طرح مایوس ہو کر بیٹھ جانا اچھا نہیں۔خدا مدد کرے گا۔مگر وہ تو جہاں جسے تھے وہیں بیٹھے رہے۔چند لوگ آپ کے ساتھ جانے پر آمادہ ہوئے۔آپ اُٹھے اور جب اُونٹنی پر سوار ہونے کے لئے اُس کو اُٹھایا۔تو خدا کی شان اُس کے پاؤں کے نیچے سے میٹھے پانی کا چشمہ بہ نکلا۔یہ دیکھ کر وہ حیران ہو گئے۔حضرت عبدالمطلب نے خود بھی پانی پیا اور آپ کے ساتھیوں نے بھی اپنی پیاس بجھائی۔پھر آپ نے قریش کے لوگوں کو بلایا اور کہا یہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے پانی دیا۔پیو اور سیر ہو جاؤ۔جی بھر کے پیاس بجھاؤ۔ساتھ ہی سفر کے لئے بھی بھر لو۔اور دیکھو میرے خدا کا نشان۔اس تازہ نشان اور خدا کی عظمت کو دیکھ کر قریش کے لوگوں نے کہا کہ خدا نے فیصلہ کر دیا۔حضرت عبدالمطلب نے پوچھا۔کیسا فیصلہ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ کے حق میں فیصلہ۔اس خدا نے ثابت کر دیا کہ چشمہ کے مالک آپ ہیں۔کیونکہ اس صحرا میں پانی کا عطا کرنا اور پانی بھی آپ کی اونٹنی کے قدموں میں نکلنا بتاتا ہے وہ پانی آپ کا ہے۔اس طرح قریش کے تمام قبائل متفقہ طور پر چشمہ زمزم سے آپ کے حق میں دستبردار ہو گئے۔لیکن اس دولت کا فیصلہ ہونا باقی تھا۔انہوں نے کہا اس دولت میں سے ہمیں بھی حصہ دو۔حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا کہ تیر ڈالیں گے۔اس زمانہ میں تیروں سے فال نکالتے تھے۔پھر بچو! یہ طے کیا کہ کعبہ کے نام کے دو تیر۔دو تیر قریش کے قبیلوں کے اور دو تیر حضرت عبدالمطلب کے۔جس چیز پر جس کے دو تیر نکلیں گے وہ اُسی کو 1 سیرۃ النبی ابن ہشام جلد اوّل