منتخب تحریرات — Page ix
قلوب کی تنویر اور روح کی بالیدگی کا باعث ہوگا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ علم دیا ہے کہ آپ ہی وہ موعود مصلح آخر زمان ہیں جس کا انتظار دنیا کے مختلف مذاہب اپنی اپنی مقدس کتابوں کی پیشگوئیوں کے مطابق کر رہے تھے۔ہندو کرشن جی کے اور بدھ مذہب کے پیر و کار گوتم بدھ کے منتظر تھے۔یہودی اور عیسائی ایک مسیحا کی انتظار کر رہے تھے اور مسلمان مہدی معہود اور مسیح موعود کے ظہور کی راہ دیکھ رہے تھے۔خدائی نوشتوں کے مطابق مقد رتھا کہ تمام ملتوں کا موعود ایک ہی وجود کی صورت میں ظاہر ہو جو حضرت خاتم النبین محمد مصطفی کا امتی اور پیروکار ہو۔جس کا مقصد بعثت تمام نوع انسانی کو اللہ تعالیٰ کے آخری دین اور مکمل ضابطہ حیات ، اسلام کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ آپ کا ظہور اس سنہری دور کا آغاز ہے جس کی انتظار میں نوع انسانی کی بے شمار نسلیں گزر گئیں۔وہ سنہری دور جس میں عدل ، امن اور صلح و آشتی کا دور دورہ ہوگا اور کرہ ارض پر آباد تمام انسانوں کا ایک ہی مذہب ہو گا یعنی دینِ اسلام اور ایک ہی پیشوا ہو گا یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔اس موعود مصلح کی بعثت کے مقاصدِ عالیہ کے حصول کا پروگرام عالمگیر ہونے کے علاوہ زمانہ کے لحاظ سے صدیوں پر محیط ہے۔لہذا ایک جماعت کی ضرورت تھی جو نسلاً بعد نسل اپنی جان مال اور وقت کی مسلسل قربانیاں دے کر غلبہ اسلام کی مہم کو آگے بڑھانے کی جد و جہد قیامت تک جاری رکھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کے مبارک دن ہندوستان کے شہر لدھیانہ میں ان مخلصین سے بیعت لی جنہوں نے آپ کو خدا تعالیٰ کا فرستادہ یقین کر لیا اور آپ کے جملہ دعاوی پر ایمان صلى الله لائے اور آپ کی اس جد و جہد میں آپ کا ساتھ دینے کا عزم کیا۔آپ نے آنحضرت ملے کے اسم مبارک احمد کی مناسبت سے اپنی اس جماعت کا نام جماعت احمد یہ رکھا۔