منتخب تحریرات — Page x
آپ نے اپنی زندگی میں آریوں اور عیسائی پادریوں کے اسلام پر حملوں کے دفاع اور قرآن کریم کی روح پرور تعلیم کی اشاعت کی خاطر اسی سے زائد کتب تصنیف فرما ئیں اور باوجود محدود وسائل کے دنیا میں اسلام کی اشاعت فرمائی۔۱۹۰۸ء میں آپ کی وفات کے بعد آپ کی جماعت میں خلافت کا نظام قائم ہوا جس کی برکت سے جماعت نے اپنی توانائیوں کو مجتمع کر کے اکناف عالم میں تبلیغ اسلام اور اشاعت قرآن کا عظیم کام جاری رکھا۔۱۹۴۷ء میں بر صغیر کی تقسیم کے وقت جب جماعت احمدیہ کے لاکھوں افراد کو پاکستان ہجرت کرنا پڑی تو یہاں جماعت نے پنجاب میں دریائے چناب کے کنارے ایک نیا مرکز تعمیر کیا جور بوہ کے نام سے مشہور ہے۔ابتداء سے ہی مخالف علماء کی طرف سے جماعت کے خلاف تحریکیں چلائی جاتی رہی ہیں جن میں سے ۱۹۵۳ء ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریکیں زیادہ مشہور ہیں۔آخر الذکر تحریک کو اُس وقت کی حکومت کی مکمل تائید اور سرگرم حمایت حاصل تھی ، حکومت نے جماعت کی ترقی روکنے اور احمدیوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنے کے بہت سے ظالمانہ قوانین نافذ کئے جن میں ۱۹۸۴ء کا اینٹی احمد یہ صدارتی آرڈی ننس XX مشہور ہے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کو پاکستان میں غیر مسلم اور کافر قرار دیا گیا۔عبادت گاہیں مسمار اور مقفل کی گئیں۔ہزاروں احمدیوں کو مقدمات ، جسمانی عقوبت، ذہنی اذیت ، قید و بند کے علاوہ بہت سے احمدیوں کو قتل کر دیا گیا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت کے افراد نے انتہائی صبر اور تحمل کے ساتھ بے مثال قربانیاں دے کر حکومت وقت اور اس کے حلیف علماء کی کوششوں کو ناکام بنادیا۔پاکستان میں احمدیوں کے خلاف ان ظالمانہ کارروائیوں کے نتیجہ میں دوسرے ممالک کے احمدیوں میں ایک بے مثال روحانی بیداری پیدا ہوئی اور جماعت نے اس دور