منتخب تحریرات — Page 11
پہلے تو رہ میں ہارے، پار اس نے ہیں اتارے میں جاؤں اس کے وارے بس نا خدا یہی ہے وہ یارِ لا مکانی ، وہ دلبر نہانی دیکھا ہے ہم نے اُس سے بس رہنما یہی ہے وہ آج شاہ دیں ہے، وہ تاج مرسلیں ہے وہ طیب وامیں ہے اس کی ثنا یہی ہے آنکھ اس کی دور میں ہے، دل یار سے قریب ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے، عین الضیاء یہی ہے جو راز دیں تھے بھارے، اُس نے بتائے سارے دولت کا دینے والا فرماں روا یہی ہے اُس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے (روحانی خزائن جلد ۲۰ قادیان کے آریہ اور ہم صفحہ ۴۵۶) اسی طرح حضرت داؤد علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کی جلالیت و عظمت کا اقرار کر کے زبور پینتالیس میں یوں بیان کیا ہے۔ (۲) تو حُسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے لبوں میں نعمت بتائی گئی ہے اسی لئے خدا نے تجھ کو ابد تک مبارک کیا ۔ (۳) اے پہلوان تو جاہ و جلال سے اپنی تلوار حمائل کر کے اپنی ران پر لڑکا۔ (۴) امانت اور حلم اور عدالت پر اپنی بزرگواری اور اقبال مندی سے سوار ہو۔ (روحانی خزائن جلد ۲ سر مه چشم آر یه حاشیه صفحه ۲۸۱-۲۸۲)