منتخب تحریرات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 51

منتخب تحریرات — Page 3

خدا کا اپنے وفا شعار بندوں سے سلوک در حقیقت وہ خدا بڑا ز بر دست اور قوی ہے جس کی طرف محبت اور وفا کے ساتھ جھکنے والے ہرگز ضائع نہیں کئے جاتے۔دشمن کہتا ہے کہ میں اپنے منصوبوں سے اُن کو ہلاک کر دوں اور بد اندیش ارادہ کرتا ہے کہ میں اُن کو کچل ڈالوں مگر خدا کہتا ہے کہ اے نادان کیا تُو میرے ساتھ لڑے گا؟ اور میرے عزیز کو ذلیل کر سکے گا؟ درحقیقت زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا مگر وہی جو آسمان پر پہلے ہو چکا۔اور کوئی زمین کا ہاتھ اس قدر سے زیادہ لمبا نہیں ہوسکتا جس قدر کہ وہ آسمان پر لمبا کیا گیا ہے۔پس ظلم کے منصوبے باندھنے والے سخت نادان ہیں جو اپنے مکر و ہ اور قابل شرم منصوبوں کے وقت اُس برتر ہستی کو یاد نہیں رکھتے جس کے ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا۔لہذا وہ اپنے ارادوں میں ہمیشہ نا کام اور شرمندہ رہتے ہیں اور ان کی بدی سے راست بازوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا بلکہ خدا کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور خلق اللہ کی معرفت بڑھتی ہے۔وہ قومی اور قادر خدا اگر چہ ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا مگر اپنے عجیب نشانوں سے اپنے تئیں ظاہر کر دیتا ہے۔روحانی خزائن جلد ۱۳ کتاب البریه مقدمه صفحه ۱۹-۲۰) خدا آسمان وزمین کا نور ہے۔یعنی ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے۔خواہ وہ ارواح میں ہے۔خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ دینی ہے خواہ خارجی۔اسی کے فیض کا عطیہ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العلمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہورہا ہے۔اور کوئی اس کے فیض سے خالی نہیں۔وہی تمام فیوض کا مبدء ہے اور تمام انوار کا علت العلل اور تمام رحمتوں کا سر چشمہ ہے۔اس کی ہستی حقیقی تمام عالم کی قیوم اور تمام زیروز بر کی پناہ ہی وہی ہے۔جس نے ہر ایک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا اور