منتخب تحریرات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 1 of 51

منتخب تحریرات — Page 1

اللہ تعالیٰ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقیناً سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے۔(روحانی خزائن جلد ۱۹ کشتی نوح صفحه ۲۱ ۲۲) اے سُننے والو!سنو ! کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔بس یہی کہ تم اُسی کے ہو جاؤ۔اُس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ہمارا خدا وہ خدا ہے جواب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا اور اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ پہلے بولتا تھا اور اب بھی وہ سنتا ہے۔جیسا کہ پہلے سنتا تھا۔یہ خیال خام ہے کہ اس زمانہ میں وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں بلکہ وہ سنتا اور بولتا بھی ہے۔اس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں۔کوئی صفت بھی معطل نہیں اور نہ کبھی ہوگی۔وہ وہی واحد لا شریک ہے جس کا کوئی بیٹا نہیں اور جس کی کوئی بیوی نہیں۔وہ وہی بے مثل ہے جس کا کوئی ثانی نہیں جس کا کوئی ہم صفات نہیں اور جس کی کوئی طاقت۔۔۔۔۔۔وہ کم نہیں۔وہ قریب ہے باوجود دور ہونے کے اور دور ہے باوجود نز دیک ہونے کے۔سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور بھی ہے۔اور وہ عرش پر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ زمین پر نہیں۔وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور مظہر ہے تمام محامد حقہ کا اور