مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 44
۴۴ کے بیان میں فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ عیسائی اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب پر جان دے دی اور پھر زندہ ہو کر مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ گئے اور اپنے باپ یعنی خدا کے دائیں ہاتھ جا بیٹھے اب وہ آخری زمانے میں انصاف قائم کرنے کے لئے زمین پر تشریف لائیں گے۔عیسائی یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ دنیا کا خدا اور خالق اور مالک وہی یسوع مسیح ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔وہی ہے جو دنیا کے اخیر میں سزا جزا دینے کے لئے جلالی طور پر نازل ہوگا۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں کا عقیدہ جزوی طور پر مختلف ہے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ عین اس وقت جب یہودیوں نے ان کو صلیب پر لٹکانا چاہا خدا کا فرشتہ ان کو مع جسم عنصری آسمان پر لے گیا جہاں وہ اب تک زندہ ہیں نیز مسلمان یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ آخری زمانے میں دمشق کے منارہ کے قریب یا کسی اور جگہ اُتریں گے اور امام محمد مہدی کے ساتھ مل کر جو پہلے سے نبی فاطمہ میں سے دنیا میں آیا ہو گا دنیا کی تمام غیر قوموں کو قتل کر دیں گے بجز اس کے جو مسلمان ہو جائیں، صلیب کو توڑ ڈالیں گے وغیرہ وغیرہ۔جماعت اسلامی کے بانی و سابق امیر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نزول مسیح کے متعلق فرماتے ہیں کہ د مسیح علیہ السلام کا نزول ثانی مسلمانوں کے درمیان ایک متفق علیہ مسئلہ ہے۔اس کی بنیاد قرآن وحدیث اور اجماع امت پر ہے۔اس بنا پر یہ بات یقینی ہے اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کی ضرور خبر دی ہے۔