مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 388
۳۸۸ - مولوی کرم دین تسلیمی کا انجام اگر چہ سیشن جج امرتسر کے یہ ریمارکس که مولوی کرم دین نہ صرف کذاب اور لیم بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ کا مستحق ہے مولوی صاحب کے لئے بڑی ذلت کا باعث تھے بلکہ ان کی باقی زندگی اور بھی درد ناک تھی۔وہ ۱۹۴۶ء تک زندہ رہے اور کئی قسم کی ذلتوں میں سے گزرے مثلاً ۱۹۴۰ء میں انہوں نے ایک ساس اور داماد کا نکاح پڑھا دیا جس پر گردونواح میں شور پڑ گیا اور علماء نے وہاں کے ۲۰۰ افراد کی مولوی صاحب کے خلاف گواہی سننے کے بعد ان کے لئے ننگ اسلام ہونے کا فتوی دے دیا۔اے اگلے سال یعنی ۱۹۴۱ء میں ان کا بیٹا منظور حسین چکوال کے ایس۔ڈی۔اوکو قتل کر کے فرار ہو گیا۔چند دن بعد پولیس نے مولوی صاحب کو گرفتار کر لیا اور انہیں جگہ جگہ لئے پھرتی رہی۔اُن کی بیوی بھی کئی دن تک پولیس کی تحویل میں رہی۔آخر جب ان کے قاتل، مفرور بیٹے کا کوئی سراغ نہ لگا تو ۲۵ / جولائی ۱۹۴۲ء کو ان کی جائداد کی نیلامی کا حکم دے دیا گیا۔ان کا بیٹا ۲۹ نومبر ۱۹۴۲ء کو بنوں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہوا جس کی خبر اخبار پر بھات نے تفصیل سے شائع کی اور بالآ خر مولوی کرم دین صاحب خود حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ پنجاب میں ۱۹۴۶ء میں ایک چھت کی منڈیر سے گر کر راہی ء ملک عدم ہوئے اور اس طرح مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی عزت پر حملہ آور ہونے والا ایک معاند بھیانک نتائج کا سامنا کر کے خود ذلیل ہو کر مر گیا۔“ ہے : قاضی محمد عابد - اشتہار ننگ اسلام مولوی کرم دین صاحب کی شکست ( تاریخ احمدیت جلدسوم صفحه ۳۱۶) : اخبار الفضل ۱۳/ جون ۱۹۵۲ء صفحہ ۷ کالم ا( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه ۱۳۱۶) خواجہ محمد شفیع وکیل چکوال