مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 320
۳۲۰ تھی ( کہ باوجود اونچی آواز سے بلانے کے۔ناقل ) ان کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کی تعداد ۲۰ سے بڑھ نہ سکیا ۴- مرزا غلام احمد صاحب کو اس مقدمے کے دوران اس بات پر بھی مسرت ہوئی کہ نہ صرف آپ کو مجسٹریٹ کے سامنے ایک صاف ستھرا اور سچا بیان دینے کا فرض ادا کرنا میسر آیا بلکہ آپ نے عیسائی ڈپٹی کمشنر کے سامنے اپنے مسیح محمدی ہونے کی نہایت احسن رنگ میں تبلیغ بھی کی۔۵ مؤلف کتاب 'مسجد داعظم نے مرزا غلام احمد صاحب کے سفر پٹھانکوٹ (بسلسلہ مقدمہ - ناقل ) کا ایک ایمان افروز واقعہ راجہ غلام حیدرخان تحصیل دار پٹھانکوٹ کے حوالے سے لکھا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ اتفاق ایسا ہوا کہ جس مقام پر مسٹر ڈوئی ڈپٹی کمشنر گورداسپور کا خیمہ لگا ہوا تھا اس کے نزدیک ہی ایک مکان میں حضرت مرزا صاحب جا کر قیام پذیر ہوئے درمیان میں ایک میدان تھا جہاں حضرت مرزا صاحب اور آپ کے احباب نماز باجماعت پڑھا کرتے تھے۔مغرب کا وقت تھا۔۔۔۔مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی حسب معمول امام بنے۔انہوں نے نماز میں جو قرآن پڑھنا شروع کیا تو ان کی بلند مگر خوش الحان اور اثر میں ڈوبی ہوئی آواز مسٹر ڈوئی کے کان میں پڑی۔وہ اپنے خیمے کے آگے کھڑے ہوئے اور ایک انہماک کے عالم میں کھڑے قرآن : اخبار الحکم۔قادیان ۳۱ / جنوری ۱۸۹۹ء ( تاریخ احمدیت جلد سوم - صفحات ۵۲-۵۳)