مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 270
۲۷۰ مرزا صاحب نے اس اشتہار کو انگریزی اور اردو زبان میں چھپوا کر ۲۰ ہزار کی تعداد میں ایشیا، یورپ اور امریکہ کے تمام بڑے بڑے مذہبی لیڈروں، فرمانرواؤں، مہاراجوں، عالموں، مدیروں، مدبروں اور نوابوں کو کثیر اخراجات صرف کر کے بذریعہ رجسٹری ڈاک بھجوایا تا کہ کوئی نامور اور معروف شخصیت ایسی نہ رہ جائے جس تک یہ خدائی آواز نہ پہنچے۔اگر چہ اس کا روائی سے بیرونی دنیا سے تو کوئی خاص اور فوری ردعمل سامنے نہ آیا لیکن ہندوستان میں اس سے ضرور ہلچل مچ گئی اور اہم واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ان میں سے کچھ کا احوال آپ گزشتہ ابواب میں پڑھ آئے ہیں۔III- مرزا غلام احمد صاحب پر مولوی محمد اسمعیل آف علی گڑھ کے اعتراضات اور بہتانات اور مولوی صاحب کا انجام : 1 علی گڑھ کے تحصیل دار سید محمد تفضل حسین صاحب کو براہین احمدیہ کے زمانے سے مرزا غلام احمد صاحب سے بڑی عقیدت تھی۔اُن کی متعدد بار کی درخواستوں پر مرزا صاحب اپریل ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ سے علی گڑھ تشریف لے گئے اور انہی کے ہاں ٹھہرے۔علی گڑھ کے ایک مولوی محمد اسمعیل صاحب مرزا صاحب سے ملنے آئے اور نہایت انکسار سے درخواست کی کہ لوگ مدت سے آپ کی باتیں سننے کے شائق ہیں بہتر ہے کہ لوگ ایک جگہ جمع ہو جائیں اور آپ کچھ وعظ فرماویں۔مرزا صاحب کی طبیعت کچھ ناساز تھی جس کی وجہ سے اس قابل نہ تھے کہ وہ ان دنوں کوئی کام دماغی۔: مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۱ء فتح اسلام۔حاشیہ صفحہ ۲۵