مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 262
۲۶۲ مرزا غلام احمد صاحب کو وفات پائے ۸۰ سال سے زائد گزر چکے ہیں اور آپ کی مخالفت براہین احمدیہ حصہ اول ۱۸۸۰ء لکھنے کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی۔ہم گزشتہ ایک صدی کے بے شمار چھوٹے بڑے واقعات کا احاطہ تو ایک کتاب یا باب میں نہیں کر سکتے لیکن ان معرکوں کا ضرور جائزہ پیش کر سکتے ہیں جو مرزا صاحب اور آپ کے شدید ترین مخالفین کے درمیان پیش آئے اور جو اپنے وقت پر دور دور تک مشہور ہوئے۔چونکہ ان معرکوں کو ماضی کا حصہ بنے ہوئے پون صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے تاریخی لحاظ سے یہ بالکل ممکن ہے کہ فاتح اور مفتوح صحیح اور غلط ، بچے اور جھوٹے کے در میان مستند حوالوں کی مدد سے تمیز کی جاسکے۔ایسے لوگ جن کے دل میں خوف خدا ہے جن میں بے جاضر اور اندھی مخالفت کا مادہ نہیں ان کے لئے یہ واقعات اور ان کے نتائج حق وصداقت کو پہچاننے میں مددگار ہوں گے۔وما علینا الا البلاغ۔جب مرزا غلام احمد صاحب نے ۱۸۸۰ء میں براہین احمدیہ تصنیف کی تو عام طور پر ہندوستان کے طول و عرض میں اس کا زبر دست خیر مقدم کیا گیا اور دشمنان اسلام خاص طور پر آریوں اور عیسائیوں کے مقابلے میں اسلام کی خوبیاں بیان کرنے میں اسے بے مثال قرار دیا گیا۔( باب اوّل ) مرزا صاحب نے زندہ خدا کے ثبوت کے لئے طالبان حق کے سامنے نشاں نمائی کا چیلنج بھی دیا اور کتاب کے اندر اپنے کئی الہامات بھی درج کئے لیکن اس تصنیف کی بنا پر مرزا صاحب کی مخالفت بھی ۱۸۸۰ء سے ہی شروع ہو گئی۔امرتسر اور لدھیانہ کے بعض علماء کے نزدیک مرزا صاحب کے الہامات غیر ممکن، غیر صحیح اور نا قابل تسلیم تھے۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے ان مخالف علماء کے بارے میں اپنے اخبار اشاعۃ السنہ میں لکھا کہ ان علماء کی مخالفت کا سبب ان کی