مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 254
۲۵۴ سخت مشکل کو دیکھ کر ہمارے وکیل خواجہ کمال الدین نے ہمیں یہ بھی صلاح دی تھی کہ بہتر ہو گا کہ اس مقدمہ میں صلح کی جائے یعنی امام الدین کو بطور خود کچھ روپیہ دے کر راضی کر لیا جائے۔لہذا میں نے مجبوراً اس تجویز کو پسند کر لیا تھا مگر وہ ایسا انسان نہیں تھا جو راضی ہوتا۔اس کو مجھ سے بلکہ دینِ اسلام سے ایک ذاتی بغض تھا اور اس کو پتہ لگ گیا تھا کہ مقدمہ چلانے کا ان پر ( یعنی مرزا غلام احمد پر۔ناقل ) قطع دروازہ بند ہے۔لہذا وہ اپنی شوخی میں اور بھی بڑھ گیا۔آخر ہم نے اس بات کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا مگر جہاں تک ہم نے اور ہمارے وکیل نے سوچا کوئی بھی صورت کامیابی کی نہیں تھی کیونکہ پرانی مثل سے امام الدین کا ہی قبضہ ثابت ہوتا تھا جس میں آکر ہماری جماعت کے یکے ٹھہرتے تھے۔وہاں پر وقت مزاحمت کرتا اور گالیاں نکالتا تھا اور صرف اسی قدر بلکہ اُس نے یہ بھی ارادہ کیا تھا کہ ہمارا مقدمہ خارج ہونے کے بعد ایک لمبی دیوار ہمارے گھر کے دروازوں کے آگے کھینچ دے تاہم قیدیوں کی طرح محاصرہ میں آجائیں اور گھر سے باہر نہ نکل سکیں۔“ مرزا غلام احمد صاحب کی مقدمہ دیوار کے بارے میں پیشگوئی: ان تشویشناک دنوں میں مرزا غلام احمد صاحب نے مالک حقیقی سے مدد مانگی جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مبشر الہام ہوا۔اس الہام کے متعلق مرزا : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۸ ء - حقیقۃ الوحی طبع اول صفحات ۲۶۶-۲۶۷