مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 226 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 226

۲۲۶ عمارات کے کرائے اور خور و نوش کا مجموعی تخمینہ لاکھوں ڈالر تک پہنچ گیا یہاں تک کہ اکتوبر کی ایک مقررہ اتوار کو دو ہفتے کے اس پروگرام کا پورا طمطراق کے ساتھ افتتاح ہوا۔قریباً پندرہ ہزار سامعین جلسہ گاہ کے اندر موجود تھے۔ہزاروں ہزار لوگ گارڈن کے باہر کھڑے تھے۔ایک طرف ڈیوٹی کے لئے تین ہزار سپاہی کھڑے تھے اور دوسری طرف پچاس مختلف بینڈ ز موسیقی کی دھنیں بجارہے تھے۔یہ سارا نظارہ جادو کر دینے والا تھا جس میں کچھ ابتدائی کاروائیوں کے بعد ڈاکٹر ڈوئی اپنی پہلی روحانی تقریر کرنے کھڑا ہوا۔لوگ بت بنے بیٹھے تھے اور ہمہ تن گوش اور اُن کے سامنے ماہ عوامی مقرر، جانا پہچانا، عیسائیت کی اُمید گاہ ڈاکٹر جان الیگزینڈر ڈوئی، رسول اوّل مگر افسوس کہ تدبیر کند بنده ، تقدیر بود خندہ ، ہزاروں کے مجموعوں کو مسحور کر دینے والا ڈوئی، حاضرین پر چھا جانے والا ڈوئی ، وہ جس کی آواز بڑے بڑے آڈیٹوریموں میں گونجا کرتی تھی ، آج بے ربط طریقے سے بولنے لگا، اُس کی آواز اور گفتار بے اثر لگنے لگی ، اُس کا جادوٹوٹ گیا۔ابھی چند منٹ ہی بولا ہوگا کہ لوگوں نے بیزار ہو کر جلسہ گاہ سے باہر نکلنا شروع کر دیا۔اُس نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی پوری کوشش کی لیکن حاضرین جلسہ کوسنبھال نہ سکا اور وہ جو ایک لاکھ نئے مریدوں کی اُمید لے کر نیو یارک آیا تھا۔اس کے لئے پہلے مریدوں کو بھی سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ڈوئی کے لئے یہ پہلی بد بختی تھی۔اس پر نمونے کے طور پر چند اخبارات کے تبصرے درج ذیل ہیں۔(الف) اخبار نیویارک امریکن نے اپنی ۱۹ اکتو بر ۱۹۰۳ء کی اشاعت میں لکھا کہ (ترجمہ) نیو یارک ایلیا ( یعنی ڈوئی۔ناقل ) کے لئے واٹر لو کا میدان بن لے : شکا گوایگزامنیر - ۱۴/اکتوبر ۱۹۰۳ء