مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 52
۵۲ فوت ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ امت محمدیہ کے ہی ایک ایسے فرد کو مسیح موعود بن کر مبعوث ہونا تھا جو اپنی صفات میں مثیل مسیح ہوا اور دوسرے یہ کہ مسیح اور مہدی کا نزول الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی شخص کے دو نام ہیں جیسا کہ ابن ماجہ میں درج ہے کہ ” لَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ لَ د یعنی مہدی عیسی ابن مریم ہوں گے اس کے سوا کوئی اور مہدی نہیں اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہدی اور عیسی ایک ہی شخص ہو گا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مولانا جلال الدین صاحب شمس ہے اور قاضی محمد نذیر صاحب سے اس مسئلہ پر جماعت احمدیہ کے نکتہ نظر کو قرآنی آیات اور احادیث اور علمائے اُمت کے اقوال کی روشنی میں تفصیل سے بیان کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے مسیح موعود اور مہدی موعود کے متعلق نظریات کو بہت سی احادیث ، اقوال علمائے امت اور قرآن سے تقویت حاصل ہوتی ہے۔ان تصریحات کی روشنی میں جب مرزا صاحب نے دعوی کیا کہ خدا تعالیٰ نے بذریعہ الہام انہیں مسیح موعود اور مہدی موعود کے مقام پر فائز کیا ہے اور امتی نبی کا مرتبہ بخشا ہے تو مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت نے مرزا صاحب کے دعوی نبوت کو محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کے منافی تعبیر کیا۔ہم پچھلے صفحات پر ابن ماجہ مطبوعہ مصر جلد ۲ صفحہ ۲۵۷ : مولانا جلال الدین شمس ۱۹۵۳ء۔فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت کے دس سوالوں کے جواب صفحات ۲۱ تا ۳۴ ۳ : قاضی محمد نذیر لاسکیپوری ۱۹۷۲ء - امام مہدی کا ظہور ،۳۲ صفحات