مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page xxi of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page xxi

Xii ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روباءِ زار و نزار مرزا صاحب نے جماعت احمدیہ کی بنیاد ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ ( پنجاب۔بھارت) میں رکھی۔اس وقت جماعت احمدیہ کے قیام کی ایک صدی مکمل ہو رہی ہے۔مرزا صاحب کے جانشین اور جماعت احمدیہ کے امام حضرت مرزا طاہر احمد صاحب نے پہلی صدی کے اختتام پر اسی مباہلے کے چیلنج کو دہرایا ہے۔۱۰ جون ۱۹۸۸ء بروز جمعہ بمقام لندن یہ کہا کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین بانی سلسلہ احمدیہ کی ذات کو ہر قسم کے ناپاک حملوں کا نشانہ بنارہے ہیں۔مرزا صاحب کو مفتری ، خدا پر جھوٹ بولنے والا ، دجال اور فریبی قرار دے رہے ہیں اور آپ کی طرف ایسے فرضی عقائد منسوب کر رہے ہیں جو ہر گز آپ کے عقائد نہ تھے۔جماعت احمدیہ پر سراسر جھوٹے الزامات کا مرتکب قرار دے کر ان کو بیرونی دنیا میں بدنام کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔چنانچہ مرزا طاہر احمد صاحب امام جماعت احمد یہ اپنی دعوت مباہلہ میں لکھتے ہیں کہ وو یہ جھگڑا بہت طول پکڑ گیا ہے اور سراسر یک طرفہ مظالم کا یہ سلسلہ بند ہونے میں نہیں آ رہا۔جماعت احمدیہ نے ہر لحاظ سے صبر کا نمونہ دکھایا اور محض للہ ان یک طرفہ مظالم کو مسلسل حوصلے سے برداشت کیا اور جہاں تک ظالموں کو سمجھانے کا تعلق ہے ہر پُر امن ذریعہ کو اختیار کرتے ہوئے معاندین و مکذبین کے آئمہ کو ہر رنگ میں سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔اور خوب کھلے لفظوں میں باخبر کیا کہ تم یہ ظلم محض جماعت احمدیہ پر