مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 179 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 179

۱۷۹ آتھم صاحب ۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ء میں ابھی سات مہینے ختم نہ کئے تھے کہ قبر میں جا پڑے ! عیسائیوں کی طرف سے عائد کردہ الزامات کے بارے میں مرزا صاحب نے لکھا اگر یہ بہانہ نہیں تھا اور واقعی طور پر ہم نے کوئی تعلیم یافتہ سانپ چھوڑا تھا یا ہمارے سوار اور پیادے اُس کو قتل کرنے کے لئے اُس کی کوٹھی پر آئے تھے یا اُس کو زہر دینے کے لئے ہماری طرف سے کوئی اقدام ہوا تھا تو اُس کو خدا نے خوب موقعہ دیا تھا کہ ہماری پیشگوئی کی قلعی کھولتا اور حملہ آوروں کو پکڑتا اور ان حملوں کے وقوع کا ثبوت دیتا یا کم سے کم اثناء پیشگوئی میں کسی تھا نہ میں رپورٹ لکھواتا یا کسی حاکم سے ذکر کرتا یا اخباروں میں چھپوا تا۔جس شخص نے اول جھوٹی پیشگوئی کر کے اس قدر اُس کے دل کو دکھایا اور اس درجہ کا صدمہ پہنچایا اور پھر زہر دینے کی فکر میں رہا اور پھر تین حملے کئے تا اس کو نیست و نابود کر دے اور اُس کی موت کو اُس کے مذہب کے بطلان پر دلیل لاوے کیا ضرور نہ تھا کہ ایسے ظالم کے ظلم پر ہر گز صبر نہ کیا جاتا۔اگر اپنے لئے نہیں تو اپنے مذہب کی حمایت کے لئے ہی ایسے مفسد کا واجب تدارک کرنا چاہئے تھا۔چنانچہ اخبار والوں نے بھی ہر طرف سے زور دیا کہ آتھم صاحب لوگوں پر احسان کریں گے۔اگر ایسے مفسد کو عدالت کے ذریعے سے سزا دلائیں گے مگر ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۷ ء - انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفہیم