مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 96 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 96

۹۶ وو جھوٹے کے درمیان فرق کا ذریعہ بنانے کا تعلق ہے اس حوالے کو مرزا صاحب نے اپنی کتاب سرمہ چشم آریہ کے صفحہ ۷۳-۷۴ پر مکمل درج کیا اور لکھا کہ یہ پنڈت صاحب کی عبارت ہے۔جو ہم نے ستیارتھ پرکاش سے نکال کر اس جگہ لکھی ہے۔اب ہم ماسٹر صاحب سے پوچھتے ہیں کہ کیوں صاحب ابھی سچ اور جھوٹ کی ترقی ہوئی یا نہیں۔اس وقت آپ فرمائیں تو سہی کہ آپ کے دل کا کیا حال ہے۔کیا وہ آپ کا قول سچ نکلا کہ مضمون مذکورہ بالا ستیارتھ پر کاش میں کسی جگہ نہیں۔افسوس اس روز ناحق آپ نے ہمارے اوقات کو ضائع کیا اور اپنی علمی حیثیت کا پردہ پھاڑا اور آج آپ ہی جھوٹے نکلے۔ہر کہ صادقاں آویخت آبروئے خودر یخت مرزا غلام احمد صاحب نے صرف ماسٹر مرلی دھر صاحب کے مباحثے میں ناکامی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کی روداد کو سرمہ چشم آریہ کی کتابی شکل میں شائع کیا بلکہ تمام آریہ صاحبان کو چیلنج دے دیا کہ وہ اس کتاب میں درج شدہ دلائل کا رد کر کے دکھا دیں تو مرزا صاحب ایسے مصنف کے سامنے نہ صرف اپنی شکست تسلیم کریں گے بلکہ اپنی طرف سے پانچ سوروپیہ انعام بھی دیں گے۔مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ یہ کتاب یعنی سرمه چشم آریہ تقریب مباحثہ لالہ مرلی دھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر ہوشیار پور جو عقائد باطلہ وید کی بکلی بیخ کنی کرتی ہے اس دعوئی اور یقین کے ساتھ لکھی گئی ہے کہ کوئی آریہ اس کتاب کا رڈ نہیں کر ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۸۶ء- سرمه چشم آریہ صفحات ۷۳-۷۴