مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 63
۶۳ ہمیں پہنچا اس کو قبول کرتے ہیں چاہے ہم اس کو سمجھیں یا اس کے بھید کو نہ سمجھ سکیں اور اس کی حقیقت تک پہنچ نہ سکیں اور ہم اللہ کے فضل سے مومن موحد مسلم ہیں۔“ گزشتہ صفحات پر ہم نے وفات وحیات مسیح علیہ السلام، ظہور مہدی موعود اور مسئلہ خاتم نبوت پر مرزا صاحب عام مسلمان علما اور احادیث اورا کا برین کی آراء کے چند نمونے پیش کئے ہیں اور پھر مرزا صاحب کی اسلام کے ساتھ وابستگی ان کے اپنے الفاظ میں بیان کی ہے۔اب ہم کم از کم دو ایسی تحریروں کے اقتباسات درج کر رہے ہیں جن میں مرزا صاحب نے اپنے الہامات اور دعویٰ نبوت کی نوعیت بیان کی ہے۔ا ” میں اُسی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اس نے ابراہیم -1 سے مکاملہ مخاطبہ کیا تھا اور پھر اسماعیل سے اور اسحق سے اور یعقوب سے اور یوسف سے اور موسیٰ سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہم کلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ پاک وحی نازل کی ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا ہے مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا ہے۔اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں ہرگز کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ کانہ پاتے : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۴ء- نورالحق حصہ اول صفحه۵۰