مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 394 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 394

۳۹۴ کہ مسلمانوں کی طرف سے وہ مدافعت شروع ہوئی جس کا ایک حصہ مرزا صاحب کو حاصل ہوا۔اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پر خچے اڑائے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس سے زیادہ خطرناک اور مستحق کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں بن کر اُڑنے لگا۔غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گرانبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یادگار چھوڑا جو اس وقت تک کے مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے قائم رہے گا۔۔اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی گچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت کی ہے۔مرزا صاحب اور مولوی محمد قاسم صاحب نے اس وقت سے کہ سوامی دیانند نے اسلام کے متعلق اپنی دماغی مفلسی کی نوحہ خانی جابجا آغا ز کی تھی اُن کا تعاقب شروع کر دیا تھا۔اس وقت سے اخیر عمر تک برابر مرزا صاحب آریہ سماج کے چہرے سے اُنیسویں صدی کے ہندو ریفارمر کا چڑھایا ہوا ملمع اُتارنے میں مصروف رہے۔ان کی آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعوئی پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے