مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 395
۳۹۵ ناممکن ہے کہ یہ تحریریں نظر انداز کی جاسکیں۔فطری ذہانت ، مشق و مہارت اور مسلسل بحث مباحثہ کی عادت نے مرز اصاحب میں ایک شان خاص پیدا کر دی تھی۔اپنے مذہب کے علاوہ مذہب غیر پر ان کی نظر نہایت وسیع تھی اور وہ اپنی ان معلومات کا نہایت سلیقہ سے استعمال کر سکتے تھے۔تبلیغ تلقین کا یہ ملکہ اُن میں پیدا ہو گیا تھا که مخاطب کسی قابلیت یا مشرب و ملت کا ہو ان کے برجستہ جواب سے ایک دفعہ ضرور گہرے فکر میں پڑ جاتا تھا۔ہندوستان آج مذاہب کا عجائب خانہ ہے۔۔۔۔مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ میں ان سب کے لئے حکم و عدل ہوں لیکن اس میں کلام نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابلے پر اسلام کو نمایاں کر دینے کی ان میں بہت مخصوص قابلیت تھی اور یہ نتیجہ تھا ان کی فطری استعداد کا ، ذوق مطالعہ اور کثرت مشق کا۔۔۔۔آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اعلیٰ خواہشیں محض اس طرح مذاہب کے مطالعہ میں صرف کر دے ! - پاکباز متقی اور قابل رشک مرتبہ کا حامل: اخبار وکیل امرتسر نے پھر لکھا کہ کیریکٹر کے لحاظ سے مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا ایک چھوٹے سے چھوٹا دھبہ بھی نظر نہیں آتا۔وہ ایک پاکباز کا جینا جیا اور لے : ایڈیٹر اخبار وکیل امرتسر مئی ۱۹۰۸ء