مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 381 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 381

۳۸۱ کرنے پر تیار نہ ہوا جن کو مرزا صاحب کے وکیل حکیم فضل دین صاحب بلوانا چاہتے تھے۔وہ متعدد پیشیوں کے دوران اس بات پر بھی تیار نہ ہوتا تھا کہ مرزا صاحب کو ذاتی طور پر حاضر ہونے سے مستثنیٰ کر دیا جائے۔ii- مقدمے کی کاروائی ۲۴ ستمبر ۱۹۰۴ء کو ختم ہوئی۔تو اگلی تاریخ یکم اکتو بر ۱۹۰۴ء مقرر کی گئی جو عام روایات کے مطابق فیصلہ سنانے کا دن ہونا چاہیے تھا۔اس دن فیصلہ سننے کے لئے مرزا غلام احمد صاحب کے ڈھائی تین سومرید کراچی، حیدر آباد، پشاور، وزیر آباد، قادیان ، لاہور، امرتسر وغیرہ سے احاطہ عدالت میں جمع ہو گئے تھے لیکن مہتہ آتما رام نے اس دن فیصلہ نہ سُنایا بلکہ ایک نئی تاریخ ۱/۸ کتوبر ۱۹۰۴ء مقرر کر دی۔اس طرح نہ صرف دور دراز کے علاقوں سے دشوار گزار سفر طے کر کے آئے ہوئے سینکڑوں احباب کو ذہنی اذیت دی گئی بلکہ مجسٹریٹ صاحب کی نیت بھی مشتبہ ہوگئی۔iii معلوم ہوتا ہے کہ فیصلے کے لئے یکم اکتوبر سے ملتوی کر کے ۸/اکتو بر ۱۹۰۴ء کا دن بھی ایک منصوبے کے تحت تھا کیونکہ دور دراز کے سینکڑوں احمدی آ تمارام کے منصوبے میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔۱/۸ اکتوبر ہفتہ کا دن تھا اگلا دن اتوار تھا اور تعطیل تھی مجسٹریٹ کا پروگرام تھا کہ فیصلہ عدالت کا وقت ختم ہونے سے صرف چند منٹ قبل سنایا جائے تاکہ اس کا عائد کردہ جرمانہ فوری طور پر ادا نہ ہو سکنے کی صورت پیدا ہو اور اس طرح مرزا صاحب کو کم از کم دو دن یعنی ہفتہ اور اتوار جیل میں بند رکھا جا سکے اسی لئے یکم اکتوبر کو فیصلہ نہ سنایا کیونکہ اتنے سارے احمدیوں کے ہوتے ہوئے جرمانے کی خطیر رقم کی ادائیگی بھی مشکل نہ تھی۔اس ضمن میں مؤلف مجدد اعظم نے ۱۸ اکتوبر کی کاروائی کا نقشہ یوں کھینچا ہے۔