مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 372 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 372

۳۷۲ ii- مقدمے کی اگلی پیشی ۱۳ جنوری ۱۹۰۴ء کو تھی جس کے لئے مرزا صاحب ۱۲/جنوری کو پچھلے پہر گورداسپور پہنچ گئے۔مرزا صاحب کو چندو لال مجسٹریٹ کی مخالفانہ اور متعصبانہ روش کی تفصیلات کا پہلے سے علم ہو چکا تھا۔اس کا ارادہ تھا کہ وہ پہلی پیشی پر ہی آپ کو گرفتار کر کے جیل میں بند کر دے۔مرزا صاحب کے گرفتار کرنے کی سازش میں چند ولال مجسٹریٹ کے ملوث ہونے کی شہادت اور اگلے دن عدالت میں پیش آمدہ واقعات کے باعث مرزا صاحب کی باعزت واپسی کا پس منظر اور پیش منظر مرزا صاحب کے ایک قریبی معتمد مولاناسید سرور شاہ صاحب کے الفاظ میں پڑھیے۔محمد حسین مذکور گورداسپور میں کسی کچہری میں محرر یا پیش کا رتھا اور سلسلہ (احمدیہ۔ناقل ) کا سخت مخالف تھا۔ڈاکٹر صاحب ( ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں۔ناقل ) نے بیان کیا کہ محمد حسین منشی آیا اور اس نے مجھے کہا کہ آج کل یہاں آریوں کا جلسہ ہوا ہے۔۔۔۔جلسہ کی عام کا روائی کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ۔۔۔اب لوگ چلے جائیں کچھ ہم نے پرائیویٹ باتیں کرنی ہیں۔پھر ان آریوں میں سے ایک شخص اُٹھا اور مجسٹریٹ (لالہ چند ولال- ناقل ) کو مرزا صاحب کا نام لے کر کہنے لگا کہ یہ شخص ہمارا سخت دشمن اور ہمارے لیڈ لیکھرام کا قاتل ہے اب وہ آپ کے ہاتھ میں شکار ہے اور ساری قوم کی نظر آپ کی طرف ہے اگر آپ نے شکار کو ہاتھ سے جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہونگے۔۔۔۔۔مجسٹریٹ نے جواب دیا کہ میرا تو پہلے سے خیال ہے کہ ہو سکے تو نہ صرف