مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 371
۳۷۱ ۱۸ اگست ۱۹۰۳ء گورداسپور میں اس مقدمہ کی پیشی ہوئی۔مرزا صاحب کے وکیل خواجہ کمال الدین صاحب نے مرزا صاحب کی طرف سے درخواست دی کہ عدالت اس مقدمہ میں مرزا صاحب کی اصالتاً حاضری معاف کر دے۔عدالت کی طرف سے یہ درخواست رد کر دی گئی۔چندو لال مجسٹریٹ کی طرف سے مرزا صاحب کے خلاف بغض کا یہ پہلا اظہار تھا۔گزشتہ صفحات پر مولوی کرم دین صاحب کے مرزا صاحب کے خلاف پہلے مقدمے کے بیان میں ان خطوط کا ذکر آچکا ہے جو مولوی کرم دین صاحب اور مولوی شہاب الدین صاحب نے مرزا صاحب حکیم فضل دین کو پیر مہر علی شاہ آف گولڑہ کی تصنیف ”سیف چشتیائی کے مبینہ طور پر سرقہ ہونے کے بارے میں لکھتے تھے اور جن کے بارے میں بعد میں ۶ اکتو بر ۱۹۰۳ء کو سراج الاخبار“ میں چھپوا دیا تھا کہ مذکورہ بالا خطوط جعلی ہیں۔مقدمے کی سماعت کے دوران جرح کے جواب میں مولوی صاحب نے ۶ اکتو بر ۱۹۰۳ء کو سراج الاخبار میں چھپنے والے اپنے مضمون کے بھی اصلی ہونے سے انکار کر دیا۔آپ نے بیان کیا کہ را کتوبر ۱۹۰۳ء کو اخبار سراج الاخبار میں جو مضمون چھپا ہے وہ میرا نہیں ہے۔میں نے کوئی خط حکیم فضل دین صاحب کو نہیں لکھا نہ لکھوایا نہ میں نے شہاب الدین کو کوئی اطلاع دی۔کہ پیر صاحب نے فیضی صاحب کی کتاب سیف چشتیانی سرقہ کی ہے۔مسل مقدمه مولوی کرم دین جہلمی - صفحه ۷۳٬۶۹،۵۸،۵۶،۵۱ ( تاریخ احمدیت۔جلد سوم۔صفحات ۲۹۱-۲۹۲)