مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 16
۱۶ اس کے بعد کے سالوں میں مرزا صاحب مسلسل رؤیا، کشوف والہامات کی بناء پر بہت سے ایسے ملکی و غیر ملکی واقعات کی قبل از وقت اطلاعات بیان کرتے رہے جن کی سچائی کی گواہی کی اکا دُکا یا کبھی چند افراد نے دی لیکن مرزا صاحب نے کبھی ان کشوف والہامات کی تشہیر کی ضرورت محسوس نہیں کی۔۱۸۷۵ء کے آخر میں تلاوت قرآن کریم ، ذکر الہی ، اصلاح ، خلوت نشینی اور درود شریف کی کثرت آپ کی زندگی کا معمول تھی۔اس دوران آپ نے خاموشی سے ایک رؤیا کی بنیاد پر ۸ یا ۹ ماہ تک مسلسل روزے رکھے۔آپ کے والد ماجد مرزا غلام مرتضی صاحب کا ۳ جون ۱۸۷۶ء کو ۸۰-۸۵ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ان کی بیماری اور پھر وفات کی خبر بھی آپ کو قبل از وقت الہاما بتا دی گئی تھی۔مرزا غلام احمد صاحب لکھتے ہیں کہ والد صاحب کی وفات کے ساتھ ہی بڑے زور شور سے سلسلہ مکالمات الہیہ کا مجھ سے شروع ہوا۔میں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ میرا کون ساعمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنائت الہی شامل حال ہوئی۔صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطرتا میرے دل کو خدا تعالیٰ کی وفاداری کی طرف ایک کشش ہے جو کسی چیز کے روکنے سے نہیں رکتی سو یہ اس کی عنایت ہے ! VI - براہین احمدیہ کی تصنیف: مرزا غلام احمد صاحب نے ۱۸۸۰ء میں اپنی پہلی کتاب براہین احمدیہ کے نام سے شائع کی جو اسلام کی حقانیت کے زبر دست دلائل پر مشتمل تھی اس لئے یہ لے : مرزا غلام احمد ۱۸۹۸ ء - کتاب البریہ طبع دوئم حاشیه صفحات ۱۶۳، ۱۶۷